اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 348
ب بدر جلد 4 ا 348 بتاتے تھے کہ یہ قرض کی صورت میں لے رہاہوں جو میں واپس کروں گا۔بہر حال حضرت زبیر کبھی امیر نہ بنے خواہ مال وصول کرنے کے لیے یا خراج کے لیے یا کسی اور مالی خدمت کے لیے سوائے اس کے کہ کسی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کے ہمراہ جہاد میں شامل ہوئے ہوں۔جہاد میں ضرور شامل ہوتے تھے لیکن بہت امیر جنہوں نے نقدی کی صورت میں پیسہ جوڑا ہو وہ نہیں ہوا۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے ان کے قرض کا حساب کیا تو بائیس لاکھ پایا۔حضرت حکیم بن حزام حضرت عبد اللہ بن زبیر سے ملے اور کہا کہ اے میرے بھتیجے !میرے بھائی پر کتنا قرض ہے ؟ حضرت عبد اللہ بن زبیر نے چھپایا اور کہا کہ ایک لاکھ۔حضرت حکیم بن حزام نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں تمہارے مال کو اتنا نہیں دیکھتا کہ وہ اس کے لیے کافی ہو۔ظاہری مال جو نظر آرہا تھا۔پھر حضرت عبد اللہ بن زبیر نے ان سے کہا کہ اگر میں کہوں کہ وہ قرض بائیس لاکھ ہے تو آپ کیا کہیں گے۔اس پر انہوں نے کہا کہ میں تو تمہیں اس کا متحمل نہیں دیکھتا، مشکل ہے ادا کر سکو۔اگر تم اس کے ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو مجھ سے مدد لے لینا۔اگر نہ ادا کر سکو تو میں حاضر ہوں۔مجھے بتانا میں تمہیں قرض ادا کر دوں گا۔حضرت زبیر نے غابہ ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدا تھا۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے سولہ لاکھ میں فروخت کیا۔پھر کھڑے ہو کر کہا کہ جس کا زبیر کے ذمہ کچھ ہو وہ ہمارے پاس غابہ پہنچ جائے۔وہ غابہ کی زمین بیچی۔سولہ لاکھ اس کی قیمت ملی اور پھر اعلان کر دیا کہ جو قرض خواہ ہیں وہ آجائیں اور اپنا قرض لے لیں۔حضرت عبد اللہ بن جعفر جن کے حضرت زبیر پر چار لاکھ تھے انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر سے کہا کہ اگر تم لوگ چاہو تو میں معاف کر دوں اور اگر چاہو تو اسے ان قرضوں کے ساتھ رکھو جنہیں تم مؤخر کر رہے ہو بشر طیکہ تم کچھ مؤخر کرو۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے کہا نہیں۔انہوں نے کہا کہ پھر مجھے ایک ٹکڑا زمین کا دے دو۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے کہا کہ تمہارے لیے یہاں سے یہاں تک ہے۔انہوں نے اس میں سے بقدر ادائے قرض کے فروخت کر دیا اور انہوں نے عبد اللہ بن جعفر کو دے دیا۔اس قرض میں سے ساڑھے چار حصے باقی رہ گئے۔حضرت عبد اللہ بن زبیر حضرت معاویہ کے پاس آئے۔اس زمانے کی بات ہے۔وہاں عمرو بن عثمان، منذر بن زبیر اور ابن زمعہ تھے۔حضرت معاویہ نے پوچھا کہ غابہ کی کتنی قیمت لگائی گئی؟ حضرت ابن زبیر نے کہا ہر حصہ ایک لاکھ کا ہے۔حضرت معاویہ نے پوچھا کتنے حصے باقی رہے ؟ انہوں نے کہا کہ ساڑھے چار حصے۔مُنذر بن زبیر نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں میں نے لے لیا۔عمرو بن عثمان نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں میں نے لے لیا۔ابن زمعہ نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں میں نے لے لیا۔حضرت معاویہ نے کہا اب کتنے بچے۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے کہا کہ ڈیڑھ حصہ۔انہوں نے کہا کہ وہ ڈیڑھ لاکھ میں میں نے لے لیا۔یعنی کہ غابہ کی وہ زمین جو باقی رہ گئی تھی اس کو بھی بیچنے لگے۔عبد اللہ بن جعفر نے اپنا حصہ حضرت معاویہؓ کے ہاتھ چھ لاکھ میں فروخت کر دیا۔بہر حال جو انہوں نے کہا تھا ناں کہ قرض اللہ تعالیٰ ادا کرے گا تو اس طرح اللہ تعالی سامان پیدا کر تا تھا تو وہ کچھ جائیداد بیچ کے قرض ادا کرتے رہے۔رض