اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 347
ناب بدر جلد 4 347 کے بچوں پر خرچ کرتے تھے۔کشائش تھی تو ان کا مال بچوں پر خرچ نہیں کرتے تھے۔اپنے پاس سے خرچ کرتے تھے تاکہ بعد میں یہ مال ان لوگوں کے کام آئے۔حضرت زبیر کو کوئی لالچ نہیں تھی۔حضرت زبیر کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے ایک ہزار غلام تھے جو انہیں خراج یعنی زمین کی پیداوار ادا کرتے تھے۔وہ اس میں سے گھر کچھ بھی نہ لاتے اور سارا صدقہ کر دیتے۔مطیع بن انسو د بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت زبیر دین کے ستونوں میں سے ایک ستون ہیں۔826 حضرت زبیر کی وصیت اور قرض کی ادائیگی حضرت عبد اللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ جب حضرت زبیر جنگ جمل کے دن کھڑے ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا۔میں ان کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ اے پیارے بیٹے ! آج یا تو ظالم کو قتل کیا جائے گا یا مظلوم۔ایسا نظر آتا ہے کہ آج میں بحالت مظلومی قتل کیا جاؤں گا۔مجھے سب سے بڑی فکر اپنے قرض کی ہے۔کیا تمہاری رائے میں ہمارے قرض سے کچھ مال بچ جائے گا؟ پھر کہا کہ اے میرے بیٹے !مال بیچ کر قرض ادا کر دینا اور میں ثلث کی وصیت کرتا ہوں، تیسرے حصے کی وصیت کرتا ہوں اور قرض ادا کرنے کے بعد اگر کچھ بچے تو اس میں سے ایک ثلث تمہارے بچوں کے لیے ہے۔ان کے بچوں کو باقی کے علاوہ دیا۔ہشام نے کہا عبد اللہ بن زبیر کے لڑکے عمر میں حضرت زبیر کے لڑکوں خبیب اور عباد کے برابر تھے۔یعنی عبد اللہ کے لڑکے حضرت زبیر کے اپنے لڑکوں کے برابر تھے۔بیٹے کے بچے جو تھے وہ بھی اس کے بھائیوں کے برابر تھے۔اس زمانے میں حضرت عبد اللہ بن زبیر کی نو بیٹیاں تھیں۔حضرت عبد اللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت زبیر مجھے اپنے قرض کی وصیت کرنے لگے کہ اے میرے بیٹے! اگر اس قرض میں سے تم کچھ ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو میرے مولیٰ سے مدد لینا۔عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں۔میں ”مولیٰ“ سے ان کی مراد نہیں سمجھا۔میں نے پوچھا کہ آپ کا مولیٰ کون ہے ؟ تو حضرت زبیر نے کہا اللہ۔پھر جب کبھی میں ان کے قرض کی مصیبت میں پڑا تو کہا اے زبیر کے مولی ! ان کا قرض ادا کر دے اور وہ ادا کر دیتا یعنی اللہ تعالیٰ پھر کوئی انتظام کر دیتا تھا۔اس قرض کی ادائیگی کے سامان پیدا کر دیتا تھا۔جائیداد تو تھی اس میں سے ہی ادا ہو جاتے تھے۔حضرت زبیر اس حالت میں شہید ہوئے کہ انہوں نے نہ کوئی دینار چھوڑا نہ در ہم سوائے چند زمینوں کے جن میں غابہ بھی تھا۔مدینے میں گیارہ مکان تھے۔دو مکان بصرہ میں تھے۔ایک مکان کو فہ میں اور ایک مکان مصر میں تھا۔حضرت زبیر مقروض اس طرح ہوئے کہ لوگ ان کے پاس مال لاتے کہ امانتار کھیں مگر حضرت زبیر کہتے کہ نہیں بلکہ یہ قرض ہے کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔یہ پیسے امانتا نہیں رکھوں گا۔میں تمہارے سے اس طرح وصول کرتا ہوں جس طرح کہ یہ قرض ہو تا ہے۔خرچ بھی کر لیتے تھے اس میں سے یا اور کوئی خطرہ ہو تو وہ بھی محفوظ ہو جائے اس لیے آپ ان کو