اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 345
تاب بدر جلد 4 345 میں ہزار ایکڑ بنتی ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو اس وقت او پر والی زمین بخشی جبکہ وہ پہلے سے ایک گاؤں کے مالک تھے جس میں کھجور کے باغ بھی تھے۔821 زبیر رسول اللہ صلی العلوم کو سب سے زیادہ پیارے تھے عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ مروان بن حکم نے بتایا کہ جس سال نکسیر کی بیماری پھیلی حضرت عثمان بن عفان کو بھی سخت نکسیر ہوئی یہاں تک کہ اس نے ان کو حج سے روک دیا اور انہوں نے وصیت کر دی تو اس وقت قریش میں سے ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں۔یعنی بہت خراب حالت ہے۔انہوں نے پوچھا کیا لوگوں نے یہ بات کہی ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔حضرت عثمان نے پوچھا کس کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں ؟ وہ خاموش رہا۔اتنے میں پھر ایک اور شخص ان کے پاس آیا۔راوی کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ وہ حارث تھا۔کہنے لگا خلیفہ مقرر کر دیں۔حضرت عثمان نے کہا کیا لوگوں نے یہ کہا ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔حضرت عثمان نے پوچھا یعنی کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہو ؟ حضرت عثمان نے پوچھا وہ کون ہے جو خلیفہ ہو گا۔وہ خاموش رہا۔حضرت عثمان نے اس سے کہا شاید وہ زبیر کو منتخب کرنے کا کہتے ہیں۔اس نے کہا ہاں۔حضرت عثمان نے کہا کہ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جہاں تک مجھے علم ہے وہ یعنی حضرت زبیر ان لوگوں میں سے یقینا بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سب سے زیادہ پیارے تھے۔822 زمین کو پانی دینے پر ایک انصاری سے اختلاف رائے اور نبی اکرم علی ایم کا فیصلہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ ان کا ایک انصاری صحابی سے جو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں پانی کی نالی میں اختلاف رائے ہو گیا جس سے وہ دونوں اپنے کھیت کو سیراب کرتے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کو ختم کرتے ہوئے فرمایا کہ زبیر تم اپنے کھیت کو سیراب کر کے اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو۔انصاری کو یہ بات ناگوار گزری اور وہ کہنے لگا یار سول اللہ یہ آپ کے پھو پھی زاد ہیں ناں۔اس لیے آپ یہ فیصلہ فرمار ہے ہیں۔اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اب تم اپنے کھیت کو سیراب کرو اور جب تک پانی منڈیر تک نہ پہنچ جائے اس وقت تک پانی کو روکے رکھو۔گویا اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو ان کا پورا حق دلوا دیا جبکہ اس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو ایسا مشورہ دیا تھا جس میں ان کے لیے اور انصاری کے لیے گنجائش اور وسعت کا پہلو تھا لیکن جب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح حکم کے ساتھ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا۔حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ بخدا میں یہ سمجھتا ہوں کہ مندرجہ ذیل آیت اسی واقعہ