اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 314
314 اصحاب بدر جلد 4 تھے جنہیں آنحضرت صلی اللہ ہم نے غزوہ اُحد میں درے کی حفاظت کے لیے پچاس تیر اندازوں کے ساتھ مقرر فرمایا تھا، یعنی ان کے بھائی کو (مقرر فرمایا) حضرت خوات درمیانے قد کے تھے۔آپ نے چالیس ہجری میں 74 برس کی عمر میں مدینہ میں وفات پائی۔ایک روایت کے مطابق وفات کے وقت آپ کی عمر 94 سال تھی۔آپؐ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگایا کرتے تھے۔جنگ بدر میں شامل نہ ہونے کے باوجود نبی اکرم صلی ال وکیل نے مال غنیمت اور اجر میں شامل فرمایا حضرت خوات بھی رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ جنگ بدر کے لیے روانہ ہوئے لیکن راستہ میں ایک پتھر کی نوک لگنے سے آپ زخمی ہو گئے۔اس لیے رسول اللہ صلی ایم نے آپ کو مدینہ بھجوا دیا۔لیکن رسول اللہ صلی علیم نے آپ کو غزوہ بدر کے مال غنیمت اور اجر میں شامل فرمایا۔گویا آپ ان لوگوں کی طرح ہی تھے جو غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔آپ غزوہ اُحد ، خندق اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی العلیم کے ہمراہ شریک ہوئے۔745۔۔۔۔۔۔اونٹ بھاگ گیا حضرت خوات “ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ صلی تعلیم کے ہمراہ مقام مد الظهران میں پڑاؤ کیا۔کہتے ہیں کہ میں اپنے خیمے سے نکلا تو کچھ عورتیں باتیں کر رہی تھیں۔مجھے یہ دیکھ کر دلچسپی پیدا ہوئی۔پس میں واپس آگیا اور ایک مجبہ پہن کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔اپنے آپ کو چھپالیا اور عورتوں کی باتیں سننے کے لیے وہاں بیٹھ گیا۔اسی اثناء میں رسول اللہ صلی علی کی اپنے خیمے سے باہر تشریف لائے۔جب میں نے رسول اللہ صلی علیکم کو دیکھا تو ڈر گیا اور آپ سے کہا کہ میرا اونٹ بھاگ نکلا ہے میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں۔میں کھڑا ہو گیا اور فوری طور پر عرض کیا۔آپ چل پڑے۔آگے چلے گئے۔میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔آپ نے اپنی چادر مجھے پکڑائی جو اوڑھی ہوئی تھی اور جھاڑیوں میں چلے گئے اور رفع حاجت کے بعد آپ نے وضو کیا اور واپس آئے۔آپ کی داڑھی سے پانی کے قطرے آپ کے سینے پر گر رہے تھے۔پھر رسول اللہ صلی علیم نے از راہ مزاح مجھ سے پوچھا کہ اے ابو عبد اللہ ! اس اونٹ نے کیا کیا ؟ اب اونٹ تو کوئی گما نہیں تھا اور آنحضرت صلی علی یم کو احساس ہو گیا تھا کہ ویسے ہی یہ باتیں سننے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ چیز اچھی نہیں ہے۔بہر حال کہتے ہیں۔پھر ہم روانہ ہو گئے۔اس کے بعد جب بھی آپ مجھے ملتے، سلام کرتے اور پوچھتے کہ ابو عبد اللہ اس اونٹ نے کیا کیا؟ جب اس طرح بار بار ہونا شروع ہوا۔آنحضور صلی املی کام اس حوالے سے مزاح کے طور پر مجھے چھیڑتے تھے تو میں مدینہ میں چھپ رہنے لگا۔جب اس بات کو کچھ عرصہ گزر گیا تو مسجد گیا اور نماز کے لیے کھڑا ہوا۔رسول اللہ صلی ا ہم بھی اپنے حجرے سے باہر تشریف لے آئے۔آپ نے دور کعت نماز ادا کی۔میں اس امید پر نماز لمبی کر تا گیا کہ آپ تشریف لے جائیں اور مجھے چھوڑ دیں۔آنحضور علی ایم نے فرمایا: ابو عبد اللہ ! جتنی مرضی نماز لمبی کر لو میں یہیں ہوں۔میں نے اپنے دل