اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 309 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 309

ب بدر جلد 4 309 حضور صلی الم نے جہاد کی تحریک فرمائی تو عمرو کے پاؤں میں تکلیف کی وجہ سے ان کے بیٹوں نے انہیں جنگ میں شامل ہونے سے روک دیا۔اللہ تعالیٰ نے بھی معذوروں کو جنگ سے رخصت دی ہوئی ہے۔اسی وجہ سے بیٹوں نے بھی انہیں روک دیا تھا کہ ہم چار لڑکے لڑنے جارہے ہیں تو پھر آپ کو کیا ضرورت ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو رخصت ہے۔اور پھر یہ باوجود خواہش کے بیٹوں کے کہنے پر جنگ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔لیکن جب اُحد کا موقع آیا تو عمرو اپنے بیٹوں کو کہنے لگے کہ تم لوگوں نے مجھے بدر میں بھی شامل نہیں ہونے دیا تھا۔اُحد کا موقع آیا ہے تو مجھے روک نہیں سکتے۔میں لازماً جاؤں گا اور اُحد میں شریک ہوں گا۔بہر حال انہوں نے کہا اب تم مجھے روک نہیں سکتے اور میں لازماً اس میں شامل ہوں گا۔پھر اولاد نے ان کو اُن کی معذوری کے حوالے سے روکنا چاہا تو یہ خود آنحضور صلی یم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ میں خود ہی حضور سے اجازت لے لوں گا۔چنانچہ وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے بیٹے اس دفعہ پھر مجھے جہاد سے روکنا چاہتے ہیں۔پہلے بدر میں روکا تھا۔اب اُحد میں بھی جانے نہیں دیتے۔میں آپ کے ساتھ اس جہاد میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔پھر انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم ! میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری دلی مراد قبول کرے گا اور مجھے شہادت عطا فرمائے گا اور میں اپنے اسی لنگڑے پاؤں کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤں گا۔آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ اے عمرو! بیشک اللہ تعالیٰ کو آپ کی معذوری قبول ہے اور جہاد آپ پہ فرض نہیں ہے لیکن ان کے بیٹوں سے آنحضرت صلی علی ایم نے فرمایا کہ تم لوگ ان کو نیک کام سے نہ رو کو۔ان کی دلی تمنا اگر ایسی ہے تو پھر اسے پورا کرنے دو شاید اللہ تعالیٰ انہیں شہادت عطا فرما دے۔چنانچہ حضرت عمرو نے اپنے ہتھیار لئے اور یہ دعا کرتے ہوئے میدان اُحد کی طرف روانہ ہوئے کہ۔اللّهُم ارْزُقْنِي شَهَادَةً وَلَا تَرُذَنِي إِلى أَهْلِي خَائِبًا۔کہ اے اللہ ! مجھے شہادت عطا کرنا اور مجھے اپنے گھر کی طرف ناکام و نامراد واپس لے کر نہ آنا۔اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا کو قبول کیا اور انہوں نے وہاں جام شہادت نوش کیا۔736 ایک بہادر خاتون نبی اکرم صلی الی یوم سے عشق و محبت کا ایک عجیب نظارہ حضرت خلّاد کی والدہ حضرت ہند بنت عمر و ( اُن کے والد کا نام بھی عمر و تھا اور خاوند کا نام بھی) حضرت جابر بن عبد اللہ کی پھوپھی تھیں۔غزوہ اُحد میں حضرت ہند نے اپنے خاوند، اپنے بیٹے اور اپنے بھائی کو شہادت کے بعد اونٹ پر لادا۔پھر جب ان کے متعلق حکم ہو ا تو انہیں واپس اُحد لو ٹایا گیا اور وہ وہیں اُحد میں دفن کئے گئے۔737 جب پتہ لگا ہے کہ شہید ہوگئے ہیں تو یہ تینوں کو پہلے مدینہ لانے کے لئے لے کر آئی تھیں، لیکن پھر واپس لے گئیں اور اس کی تفصیل بھی آگے بیان ہوئی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی مرضی تھی کہ اُحد کے یہ