اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 307 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 307

اصحاب بدر جلد 4 307 انہوں نے کہا کہ خلاد تو مجھ سے جدا ہو گیا ہے لیکن میں اپنی حیا کو خود سے جدا نہیں ہونے دوں گی۔یہ ئین جو رواج تھاوہ اس طرح نہیں ہو گا اور پر وہ حیا ہے وہ تو قائم رہے گی۔حضرت خلاد کی شہادت پر یہ تفصیل آگے اس طرح بھی آتی ہے کہ حضرت خلاد کی شہادت پر نبی صلی یم نے فرمایا کہ ان کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔لیکن زائد اس میں ہے جب پوچھا گیا کہ یار سول اللہ ایسا کیوں ہے ؟ دو شہیدوں کا اجر کس لیے ؟ تو آپ نے فرمایا کیونکہ انہیں اہل کتاب نے شہید کیا ہے 732 96 حضرت خلاد بن عمرو تین بھائیوں کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے والے حضرت خلّادُ بن عمرو بن جموخ انصاری صحابی تھے اور بدری صحابہ میں شامل تھے۔آپ اپنے والد حضرت عمرو بن جموح اور بھائیوں حضرت مُعاذ، حضرت ابو ایمن، اور حضرت معوذ " کے ہمراہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔حضرت ابو ایمن کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آپ کے بھائی نہیں تھے بلکہ آپ کے والد حضرت عمرو بن جموح کے آزاد کردہ غلام تھے۔الله 733 جنگ بدر اور نیک فال جنگ بدر کے لئے روانہ ہوتے ہوئے نبی کریم صلی یکم نے اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ سے باہر ایک جگہ شقیا کے پاس قیام کیا۔حضرت عبد اللہ بن قادة اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے سُقيا، مدینہ سے باہر ایک جگہ تھی جہاں کنواں بھی تھا ایک، اس کے قریب نماز ادا کی اور اہل مدینہ کے لئے دعا کی۔حضرت عدی بن ابي الزَّغْبَاء اور بَسْبَس بن عمر و اسی جگہ اس قیام کے دوران میں نبی کریم صلی ا یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور بعض روایات کے مطابق حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام بھی رسول اللہ صلی ایم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا اس جگہ قیام کرنا اور اصحاب کا جائزہ لینا بہت اچھا ہے اور ہم اسے نیک فال سمجھتے ہیں کیونکہ جب ہمارے یعنی بنو سلمہ اور اہل حُسیگہ کے درمیان معرکہ ہوا تھا تو ہم نے یہیں پڑاؤ ڈالا تھا۔اسلام سے پہلے کی پرانی بات بیان کر رہے ہیں۔مدینہ کے نواح میں ذباب نامی ایک پہاڑ ہے حسنکہ اس پہاڑ کے پاس ہی مقام تھا جہاں بڑی تعداد میں یہود آباد تھے۔اسی مقام پر کہتے ہیں کہ ہم نے بھی اپنے اصحاب کی حاضری اور جائزہ لیا تھا اور جو لوگ جنگ کی طاقت رکھتے تھے ان کو اجازت دی تھی اور جو ہتھیار اٹھانے