اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 306 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 306

تاب بدر جلد 4 306 میسر ہو پڑھو یعنی سورہ فاتحہ کے بعد جو میسر ہے۔پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں تمہیں اطمینان ہو جائے۔پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ۔پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ تمہیں سجدے میں اطمینان ہو جائے۔پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔الغرض اپنی ساری نماز میں اسی طرح کرو۔728 علامہ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ وہ شخص جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا وہ حضرت غلا ذ بن رافع 729 95 نام و نسب حضرت خلاد بن سوید حضرت خلاد بن سوید۔یہ انصاری تھے۔حضرت خلاد کا تعلق خزرج کی شاخ بنو حارث سے تھا۔آپ کی والدہ کا نام عمرہ بنت سعد تھا۔آپؐ کے ایک بیٹے حضرت سائب کو نبی صلی علیکم کی صحبت نصیب ہوئی اور بعد میں حضرت عمرؓ نے انہیں یمن کا عامل بھی مقرر فرمایا۔دوسرے بیٹے کا نام حَكَمُ بن خَلًاد تھا۔ان دونوں کی والدہ کا نام لیلی بنتِ عُبادہ تھا۔بیعت عقبہ میں شمولیت حضرت خَلًا د بیعت عقبہ میں شامل ہوئے۔آپ نے غزوہ بدر اور احد اور خندق میں شرکت کی۔غزوہ بنو قریظہ میں شہادت اور دو شہیدوں کا اجر پانے والے غزوہ بنو قریظہ میں ایک یہودی عورت نے جس کا نام بنانہ تھا اوپر سے آپ پر بھاری پتھر پھینکا جس سے آپ کا سر پھٹ گیا اور آپ شہید ہو گئے۔اس پر نبی کریم صلی علی یکم نے فرمایا کہ خلاد کے لیے دو شہیدوں کے برابر اجر ہے۔رسول اللہ صلی علی ایم نے اس عورت کو بھی بطور قصاص پھر بعد میں قتل کروا دیا تھا۔730 سیرت خاتم النبیین میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح لکھا ہے کہ "چند مسلمان جو ان کے قلعہ کی دیوار کے پاس ہو کر ذرا آرام کرنے بیٹھے تھے ان پر ایک یہودی عورت بنانہ نامی نے قلعہ کے اوپر سے ایک بھاری پتھر پھینک کر ان میں سے ایک آدمی خلاد نامی کو شہید کر دیا اور باقی مسلمان بچ گئے۔' پھر آتا ہے کہ حضرت خلاد " کی والدہ کو جب آپ کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ نقاب کر کے تشریف لائیں۔ان سے کہا گیا کہ خلاد شہید کر دیے گئے ہیں اور آپ نقاب کر کے آئی ہیں۔اس پر 731"