اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 288
اصحاب بدر جلد 4 288 بعد جب میں نے اس مقتول شخص کی بیٹی سے شادی کر لی تو وہ کہا کرتی تھی کہ تم اس آدمی کو بھلانہ سکو گے جس نے تمہیں یہ زخم لگایا ہے۔اس پر میں کہتا تھا کہ تم بھی اس آدمی کو بھلا نہ پاؤ گی جس نے تمہارے باپ کو جلد آگ میں پہنچایا۔684 قریش مکہ کے سردار امیہ بن خلف کو قتل کرنے والے غزوہ بدر میں حضرت حبیب بن اساف نے قریش مکہ کے سردار امیہ بن خلف کو قتل کیا تھا جس کا اختصار کے ساتھ مقتول کے نام کا تذکرہ کیے بغیر مسند احمد بن حنبل کی روایت میں تذکرہ ہوا ہے شادی والا واقعہ جو ہے۔اس واقعہ کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے علامہ نور الدین حلبی اپنی کتاب 'سیرۃ حلبیہ میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ میدانِ بدر میں مجھے اُمیہ بن خلف ملا۔وہ جاہلیت کے زمانے میں میر ا دوست تھا۔امیہ کے ساتھ اس کا بیٹا علی بھی تھا جس نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔یہ علی ان مسلمانوں میں سے تھا جو نبی کریم صلی علی ایم کے مکہ سے ہجرت سے قبل اسلام قبول کر چکے تھے۔اس وقت ان کے رشتے داروں نے انہیں اسلام سے پھیرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب ہو گئے۔اسلام قبول کیا تھا اور پھر اسلام سے پھر گئے اور پھر یہ لوگ کفر کی حالت میں مر گئے۔ان ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ تَوَقُهُمُ الْمَلَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْأَرْضِ (النساء: 98 یقیناً وہ لوگ جن کو فرشتے اس حال میں وفات دیتے ہیں کہ وہ اپنے کر نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں وہ ان سے کہتے ہیں کہ تم کس حال میں رہے؟ وہ جو ابا کہتے ہیں کہ ہم تو وطن میں بہت کم زور بنا دیے گئے تھے۔بہر حال کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں میں حارث بن ربیعه، ابو قیس بن فاكه، ابو قیس بن ولید ، عاص بن منبہ اور علی بن امیہ تھے۔علامہ نورالدین حلبی لکھتے ہیں کہ کتاب سیرت ہشامیہ میں لکھا ہے کہ ان لوگوں نے جب اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی لی کر سکتے میں تھے۔پھر جب رسول اللہ صلی المی کریم نے مدینے کی طرف ہجرت کی تو ان لوگوں کو ان کے آباء اور رشتے داروں نے گلے میں ہی روک لیا اور انہیں آزمائش میں ڈالا جس کے نتیجے میں یہ لوگ فتنے میں پڑ گئے اور اسلام سے پھر گئے ، اسلام چھوڑ دیا۔پھر وہ غزوہ بدر کے وقت اپنی قوم کے ساتھ نکلے اور یہ سب وہاں قتل ہوئے۔اس سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ آنحضرت صلی علیم کی ہجرت سے پہلے اپنے دین سے نہیں پھرے تھے جبکہ پہلی روایت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ آپ صلی تعلیم کے مکے سے ہجرت کرنے سے قبل کفر کی طرف لوٹ چکے تھے۔بہر حال حضرت عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس کئی زرہیں تھیں جنہیں میں نے اٹھایا ہوا تھا۔اس وقت جنگ کا واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ جب امیہ نے مجھے دیکھا تو مجھے میرے جاہلیت کے نام سے اے عبد عمرو! کہہ کر پکارا۔میں نے اس کا جواب نہیں دیا کیونکہ رسول اللہ صلی علیم نے جب میر انام عبد الرحمن رکھا تھا تو فرمایا تھا کہ کیا تم اس نام کو چھوڑ نا پسند کرو گے جو تمہارے باپ دادا نے رکھا تھا؟ میں