اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 287 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 287

بدر جلد 4 287 صلی ایم نے فرمایا کہ کوٹ جاؤ۔میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔پھر وہ لوٹا اور آپ کو بیداء جو ہے (ذوالحلیفہ، مدینہ سے چھ یا سات میل کے فاصلے پر ایک اور مقام ہے۔شجرۃ اس کے پاس ہی ایک مقام ہے اور بیداء مقام بھی ادھر ہی ہے۔یہ دونوں جگہ قریب قریب ہیں بہر حال) پھر وہاں ملا تو صلی علی کریم نے اسے فرمایا جیسے پہلے فرمایا تھا کہ مشرک سے ہم مدد نہیں لیں گے اور پھر آپ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں۔تو رسول اللہ صلی علیم نے اسے فرمایا کہ چلو اب تم میرے ساتھ جا سکتے ہو۔181 اس روایت کی شرح میں ذکر کیا گیا ہے کہ جس شخص کے اسلام قبول کرنے کا ذکر اس روایت میں کیا گیا ہے وہ حضرت خبیب تھے۔682 قبول اسلام اور سیرت حلبیہ حضرت خبیب بن اساف کے اسلام قبول کرنے اور غزوہ بدر میں شرکت کا ذکر کرتے ہوئے علامہ نور الدین حلبی اپنی کتاب سيرة حلبیہ میں بیان کرتے ہیں کہ مدینے میں حبیب بن يساف “ نامی ایک 683 طاقت ور اور بہاد ہے۔شخص تھا۔یہ حضرت خبیب بن اساف کا دوسرا نام ہے جو سیرت کی کتب میں لکھا ہوا ہے۔بہر حال یہ شخص قبیلہ خزرج کا تھا۔غزوہ بدر تک مسلمان نہیں ہوا تھا مگر یہ بھی اپنی قوم خزرج کے ساتھ جنگ جیتنے کی صورت میں مالِ غنیمت ملنے کی امید میں جنگ کے لیے روانہ ہوا۔مسلمان اس کے ساتھ نکلنے پر بہت خوش ہوئے مگر رسول اللہ صلی علیم نے اس سے فرمایا کہ ہمارے ساتھ صرف وہی جنگ میں جائے گا جو ہمارے دین پر ہے۔ایک اور روایت میں یہ ہے کہ آنحضرت صلی علی یم نے فرمایا تم واپس جاؤ ہم مشرک کی مدد نہیں لینا چاہتے۔حبیب کو یا حبیب کو آنحضرت صلی علیم نے دو مر تبہ واپس لوٹادیا تھا۔تیسری مرتبہ آپ صلی علیکم نے اس سے فرمایا کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے ؟ اس نے کہاہاں اور اسلام قبول کر لیا۔پھر اس نے نہایت بہادری کے ساتھ زبر دست جنگ کی۔3 مسند احمد بن حنبل میں حضرت حبیب اپنے اسلام قبول کرنے کے واقعہ کی تفصیلات یوں بیان کرتے ہیں کہ میں اور میری قوم کا ایک اور آدمی رسول اللہ صلی یی کم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جبکہ آپ صلی علی کرم ایک غزوے کی تیاری فرمارہے تھے اور ہم نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ہم نے عرض کیا کہ یقینا ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم تو جنگ کے لیے جارہی ہو اور ہم اس میں ان کے ساتھ شامل نہ ہوں۔آپ صلی العلیم نے فرمایا کہ کیا تم دونوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ہم نے عرض کیا نہیں۔اس پر آپ صلی لین کوم نے فرمایا یقیناً ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں کی مدد نہیں چاہیں گے۔مشرکوں کے خلاف جنگ ہو رہی ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے ہم مشرکوں سے ہی مدد لیں۔وہ کہتے ہیں یعنی حضرت حبیب کہتے ہیں کہ اس پر ہم نے اسلام قبول کر لیا اور آپ صلی علی کرم کے ساتھ اس غزوے میں شامل ہوئے۔میں نے اس جنگ میں ایک شخص کو قتل کیا اور اس نے تبھی مجھے چوٹ پہنچائی۔پھر اس کے الله