اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 273 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 273

ناب بدر جلد 4 273 646 فَدَا فَعْتُ عَنْ حِيَى خُبَيْبِ وَعَاصِمٍ وَكَانَ شِفَاءَ لَوْ تَدَارَكَتْ خَالِدًا کہ کاش میں اس واقعہ رجیع ) میں ابن طارق اور زید اور مریم کے ساتھ ہوتا۔اگرچہ آرزوئیں کچھ کام نہیں آتیں۔تو میں اپنے دوست حبیب اور عاصم کو بچاتا اور اگر میں خالد کو پالیتا تو وہ بھی بچ جاتا۔تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دین کی حفاظت کے لئے، اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے قربانیاں دیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنے۔647 649 نگیر بن عبدیالیل ان کی ولدیت تھی۔قبیلہ بنو سعد سے ہیں جو بنی عدی کے حلیف تھے۔648 ابن اسحاق نے کہا ہے کہ ہمیں ایاس اور ان کے بھائیوں عاقل، خالد اور عامر کے علاوہ کوئی بھی چار ایسے بھائی معلوم نہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہوں۔ان چاروں بھائیوں نے اکٹھی ہجرت کی اور مدینہ میں رفاعہ بن عبد المنذر کے ہاں قیام کیا۔19 ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جنگ احد کے بعد قبائل عضل اور قارہ کے چند لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں اسلام کی رغبت ہو رہی ہے آپ ہمارے ساتھ اپنے اصحاب میں سے چند لوگ روانہ فرمائیں تاکہ وہ ہماری قوم کو دین کی تعلیم دیں اور قرآن پڑھائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مریمد بن ابی مرید کی امارت میں چھ صحابہ کو ان کے ساتھ بھجوا دیا جن میں حضرت خالد بن بگیر بھی شامل تھے۔ان کو ان لوگوں نے بعد میں دھوکے سے شہید بھی کر دیا تھا جو دین سیکھنے کے لیے لے کے گئے تھے۔650 87 حضرت خالد بن قیس حضرت خالد بن قیس۔حضرت خالد کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بَنُو بَيَاضَہ سے تھا۔آپ کے والد قیس بن مالک تھے اور والدہ کا نام سلمیٰ بنت حارثہ تھا۔آپ کی اہلیہ اور ربیع تھیں جن سے ایک بیٹے عبد الرحمن تھے۔ابن اسحاق کے نزدیک آپ ستر انصار صحابہ کے ساتھ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے۔حضرت خالد نے غزوہ بدر اور احد میں شرکت کی تھی۔651