اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 260 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 260

اصحاب بدر جلد 4 260 عرب کے دستور کے مطابق پہلے روشناسی ہوئی۔پھر عبیدۃ بن مطلب ولید کے مقابل ہو گئے اور حمزہ عشبہ کے اور علی شیبہ کے۔حمزہ اور علی نے تو ایک دوواروں میں ہی اپنے حریفوں کو خاک میں ملا دیا لیکن عبیدۃ اور ولید میں دو چار اچھی ضر میں ہوئیں اور بالآخر دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ سے کاری زخم کھا کر گرے۔جس پر حمزہ اور علی نے جلدی سے آگے بڑھ کر ولید کا تو خاتمہ کر دیا اور عبیدۃ کو اُٹھا کر اپنے کیمپ میں لے آئے۔مگر عبیدہ اس صدمہ سے جانبر نہ ہو سکے اور بدر سے واپسی پر راستہ میں انتقال کیا۔61966 حضرت حمزہ نے غزوہ بدر میں طعیمہ بن عدی سردار قریش کو بھی قتل کیا تھا۔620 غزوہ بدر کے واقعہ کے وقت کی ایک روایت ہے کہ حضرت حمزہ نے نشہ کی حالت میں حضرت علی کی اونٹنیوں کو مار دیا تھا۔یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔اس کی تفصیل بخاری میں یوں بیان ہوئی ہے: مختلف راوی ہیں۔حضرت علی بن حسین اپنے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی کے موقع پر مجھے ایک جوان اونٹنی غنیمت میں ملی اور ایک دوسری اونٹنی مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عنایت فرمائی۔ایک دن ایک انصاری صحابی کے دروازے پر میں ان دونوں کو اس خیال سے باندھے ہوئے تھا کہ ان کی پیٹھ پر اذخر (وہ ایک گھاس ہے کہ جسے سنار وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیں، خوشبو دار گھاس ہے) رکھ کر بیچنے لے جاؤں گا۔بنی قینقاع کا ایک سنار بھی میرے ساتھ تھا۔اس طرح خیال یہ تھا کہ اس کی آمدنی سے فاطمہ رضی اللہ عنہا جن سے میں نکاح کرنے والا تھا ان کا ولیمہ کروں گا۔حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اسی انصاری کے گھر میں شراب پی رہے تھے۔ان کے ساتھ ایک گانے والی بھی تھی۔اس نے جب یہ مصرع پڑھا کہ ہاں اے حمزہ ! اٹھو فربہ جوان اونٹنیوں کی طرف بڑھو۔حمزہ رضی اللہ عنہ جوش میں تلوار لے کر اٹھے اور دونوں اونٹنیوں کے کوہان چیر دیے۔ان کے پیٹ پھاڑ ڈالے اور ان کی کلیجی نکال لی۔ابن جریج نے بیان کیا کہ میں نے ابنِ شہاب سے پوچھا کہ کیا کو ہان کا گوشت بھی کاٹ لیا ؟ انہوں نے بیان کیا کہ ان دونوں کے کوہان بھی کاٹ لیے اور انہیں لے گئے۔ابن شہاب نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یہ دیکھ کر بڑی تکلیف ہوئی۔پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ کی خدمت میں اس وقت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔میں نے آپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی تو آپ تشریف لائے۔زید رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ ہی تھے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خفگی کا اظہار فرمایا تو حضرت حمزہ نے نظر اٹھا کر دیکھا۔نشہ کی حالت میں تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کہنے لگے کہ تم سب میرے باپ دادا کے غلام ہو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں لوٹ کر ان کے پاس سے چلے آئے۔یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا قصہ ہے۔21 621