اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 258 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 258

تاب بدر جلد 4 258 کا بھی خیال تھا۔اس کا مطلب یہی ہے کہ دراصل آپ کی یہ مہم قریش کی خطرناک کارروائیوں کے سدباب کے لیے تھی۔اور اس میں اُس زہر یلے اور خطرناک اثر کا ازالہ مقصود تھا جو قریش کے قافلے وغیرہ مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب میں پیدا کر رہے تھے اور جس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت ان ایام میں بہت نازک ہو رہی تھی۔617 بہر حال حضرت حمزہ نے اس غزوہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا اٹھایا ہوا تھا۔جمادی الاولی 2 ہجری میں پھر قریش مکہ کی طرف سے کوئی خبر پا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ جن کی تعداد ڈیڑھ سو یا دو سو بیان ہوئی ہے مدینہ سے عشیرہ کی طرف نکلے اور اپنے پیچھے اپنے رضاعی بھائی ابو سلمہ بن عبد الاسد کو امیر مقرر فرمایا۔اس غزوہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفید رنگ کا جھنڈ ا حضرت حمزہ نے اٹھایا ہو ا تھا۔اس غزوہ میں آپ کئی چکر کاٹتے ہوئے بالآخر ساحل سمندر کے قریب ینبغ کے پاس مقام عشیره پہنچے اور گو قریش کا مقابلہ نہیں ہوا مگر اس میں آپ نے قبیلہ بنو د لنج کے ساتھ انہی شرائط پر جو بنو ضمرہ کے ساتھ تھیں ایک معاہدہ طے فرمایا اور پھر واپس تشریف لے آئے۔618 جنگ بدر میں انفرادی لڑائی میں جو مبارز طلبی کا ذکر ہے ، یہ پہلے مختلف حدیثوں کے حوالے سے بیان ہو چکا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کی تفصیل اس طرح لکھی ہے کہ : اب فوجیں بالکل ایک دوسرے کے سامنے تھیں۔مگر قدرت الہی کا عجیب تماشہ ہے کہ اس وقت لشکروں کے کھڑے ہونے کی ترتیب ایسی تھی کہ اسلامی لشکر قریش کو اصلی تعداد سے زیادہ بلکہ دو گنا نظر آتا تھا جس کی وجہ سے کفار مرعوب ہوئے جاتے تھے اور دوسری طرف قریش کالشکر مسلمانوں کو ان کی اصلی تعداد سے کم نظر آتا تھا۔جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے دل بڑھے ہوئے تھے۔قریش کی یہ کوشش تھی کہ کسی طرح اسلامی لشکر کی تعداد کا صحیح اندازہ پتہ لگ جاوے تاکہ وہ چھوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دے سکیں۔اس کے لئے رؤساء قریش نے عمیر بن وہب کو بھیجا کہ اسلامی لشکر کے چاروں طرف گھوڑا دوڑا کر دیکھے کہ اس کی تعداد کتنی ہے اور آیا ان کے پیچھے کوئی کمک تو مخفی نہیں؟ چنانچہ عمیر نے گھوڑے پر سوار ہو کر مسلمانوں کا ایک چکر کا نا مگر اسے مسلمانوں کی شکل و صورت سے ایسا جلال اور عزم اور موت سے ایسی بے پروائی نظر آئی کہ وہ سخت مرعوب ہو کر لوٹا اور قریش سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔” مجھے کوئی مخفی کمک وغیرہ تو نظر نہیں آئی، لیکن اے معشر قریش! میں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں گویا اونٹنیوں کے کجاووں نے اپنے اوپر آدمیوں کو نہیں بلکہ موتوں کو اٹھایا ہوا ہے اور یثرب کی سانڈنیوں پر گو یا ہلاکتیں سوار ہیں۔“ قریش نے جب یہ بات سنی تو اُن میں ایک بے چینی سی پیدا ہو گئی۔سراقہ جو ان کا ضامن بن کر آیا