اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 257
اصحاب بدر جلد 4 257 جب انہوں نے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان یعنی جبرئیل علیہ السلام کے دونوں پاؤں سبز زبر جد کی مانند ہیں۔پھر وہ غشی کی حالت میں گر پڑے۔زبر جد بھی ایک قیمتی پتھر ہے۔کہتے ہیں جو 616 615 زَمُرد سے مشابہت رکھتا ہے۔صفر دو ہجری میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ سے ابواء کی طرف نکلے جس میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو بھی شرکت کی توفیق ملی۔اس غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے ہی اٹھایا ہوا تھا جو کہ سفید رنگ کا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ سلم نے اپنے پیچھے حضرت ابو سعد رضی اللہ عنہ یا ایک روایت کے مطابق حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا۔اس سفر میں لڑائی کی نوبت نہیں آئی اور بنو ضمرہ کے ساتھ صلح کا معاہدہ طے پا گیا۔یہ پہلا غزوہ تھا جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس شرکت کی۔اس غزوہ کا دوسرانام وڈان بھی ہے۔اس بارہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ ”جہاد بالسیف کی اجازت ہجرت کے دوسرے سال ماہ صفر میں نازل ہوئی۔چونکہ قریش کے خونی ارادوں اور ان کی خطرناک کارروائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے فوری کارروائی کی ضرورت تھی اس لئے آپ اسی ماہ میں مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہوئے مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے۔روانگی سے قبل آپ نے اپنے پیچھے مدینہ میں سعد بن عبادہ رئیس خزرج کو امیر مقرر فرمایا اور مدینہ سے جنوب مغرب کی طرف مکہ کے راستہ پر روانہ ہو گئے اور بالآخر مقام وڈان تک پہنچے۔اس علاقہ میں قبیلہ بنو ضمرہ کے لوگ آباد تھے۔یہ قبیلہ بنو کنانہ کی ایک شاخ تھا اور اس طرح گویا یہ لوگ قریش کے چچازاد بھائی تھے۔یہاں پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو ضمرہ کے رئیس کے ساتھ بات چیت کی اور باہم رضامندی سے آپس میں ایک معاہدہ ہو گیا۔جس کی شرطیں یہ تھیں کہ بنو ضمرة مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مسلمانوں کی مدد کے لیے بلائیں گے تو وہ فوراً آجائیں گے۔دوسری طرف آپ نے مسلمانوں کی طرف سے یہ عہد کیا کہ مسلمان قبیلہ بنو ضمرة کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور بوقت ضرورت ان کی مدد کریں گے۔یہ معاہدہ با قاعدہ لکھا گیا اور فریقین کے اس پر دستخط ہوئے اور پندرہ دن کی غیر حاضری کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔غزوہ وڈ ان کا دوسرا نام غزوہ ابوا بھی ہے کیونکہ وڈ ان کے قریب ہی ابوا کی بستی بھی ہے اور یہ وہی مقام ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا تھا۔“ یہ وہ مقام ہے۔”مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس غزوہ میں بنو ضمرہ کے ساتھ قریش مکہ