اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 11
بدر جلد 4 11 اور آپ صلی اللی کام کے چہرہ مبارک کو دیکھنے اور اس کو سلامتی بھیجنے کے لئے نکلا ہوں۔تھوڑی دیر تک حضرت عمر بھی آگئے۔آپ صلی اللہ ہم نے دریافت فرمایا کہ اے عمر تجھے کیا چیز لے آئی ؟ عمر نے عرض کیا یارسول اللہ صلی علیکم مجھے بھوک لے آئی ہے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہوئی ہے۔پھر آپ سب لوگ حضرت ابو الهنقم انصاری کے گھر کی طرف چل پڑے۔ان کے پاس کافی بکریاں اور کھجور کے درخت تھے۔نبی کریم صلی للہ ہم نے ان کو گھر پر نہ پایا۔آپ نے ابو الهیقم کی بیوی سے کہا کہ تیر اخاوند کہاں ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔تھوڑی دیر بعد حضرت ابُو الْهَيْشَمُ بھی مشک اٹھائے ہوئے آگئے۔انہوں نے مشک ایک طرف رکھ دی اور نبی کریم صلی الم سے لپٹ گئے اور اپنی جان ومال وارنے لگے۔میرے ماں باپ آپ صلی تعلیم پر فدا ہوں۔حضرت ابو الْهَيْشَم آپ تینوں کو لے کر اپنے باغ کی طرف گئے اور ایک چادر بچھا دی۔پھر جلدی سے باغ کی طرف گئے اور کھجور کا پورا خوشہ ہی کاٹ کر لے آئے جس پر کچے پکے ڈو کے بھی تھے اور پکی ہوئی کھجوریں بھی تھیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابو الهيفخر ! تم پکی ہوئی کھجوریں یا ڈو کے چن کر کیوں نہیں لائے بجائے جو سارا پورا bunch ہے وہ لے آئے ہو۔تو عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے چاہا آپ اپنی پسند کے مطابق پکی کھجوریں یاڈو کے خود چن کر کھالیں۔آپ صلی للی کم اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا خدا کی قسم ! یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم قیامت کے دن پوچھے جاؤ گے۔یعنی ٹھنڈ اسامیہ اور ٹھنڈا پانی اور تازہ کھجوریں۔پھر حضرت ابو الهنقم آپ کی تعلیم کے لئے کھانے کا انتظام کرنے اٹھے تو آپ صلی الی یکم نے فرمایا کہ دودھ دینے والی بکری کو ذبح نہ کرنا۔اس پر انہوں نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور اسے لے کر آپ صلی علی کرم کے پاس لائے اور سب نے اسے کھایا۔آپ صلی علیم نے فرمایا کہ کیا تمہارا کوئی خادم بھی ہے ؟ تو حضرت ابوالْهَيْئَم نے عرض کیا کہ نہیں۔آپ صلی للہ ﷺ نے فرمایا کہ جب ہمارے پاس کوئی جنگی قیدی آئے تو ہمارے پاس آنا۔نبی اکرم صلی کم کا خادم عطا فرمانا اور بیوی کے مشورہ پر اس کو آزاد کر دینا جب نبی کریم صلی علیم کے پاس دو قیدی آئے تو حضرت ابُو الْهَيْشَم آپ صلی ایم کے پاس حاضر ہوئے۔آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان دونوں میں سے ایک کو پسند کر لو۔حضرت ابو الْهَيْئَم کہنے لگے۔یا رسول اللہ ! آپ ہی میرے لئے انتخاب فرما دیں۔نبی کریم صلی اللہ کریم نے فرمایا کہ جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے۔( یہ بات بھی خاص طور پہ ہر ایک کے لئے نوٹ کرنے والی ہے کہ جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے اس لئے ہمیشہ اچھا مشورہ دینا چاہئے۔پھر آپ نے فرمایا کہ یہ خادم لے لو کیونکہ میں نے اسے عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔اور جو خوبی اس خادم کی بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ