اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 232

اصحاب بدر جلد 4 232 جنگ بدر کے موقعہ پر ان کا مشورہ جسے جبرئیل کی تائید حاصل ہوئی ان کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی سیرۃ خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ "جس جگہ اسلامی لشکر نے ڈیرہ ڈالا تھا وہ کوئی ایسی اچھی جگہ نہ تھی۔اس پر حضرت حباب بن منذر نے آپ سے چھا کہ خدائی الہام کے ماتحت آپ نے یہ جگہ پسند کی ہے یا محض فوجی تدبیر کے طور پر اسے اختیار کیا ہے ؟ محضرت علی ای نم نے فرمایا کہ اس بارے میں کوئی خدائی حکم نہیں ہے۔تم اگر کوئی مشورہ دینا چاہتے ہو تو بتاؤ ؟ اس پر حضرت حباب نے عرض کیا تو پھر میرے خیال میں یہ جگہ اچھی نہیں ہے۔بہتر ہو گا کہ آگے بڑھ کر قریش سے قریب ترین چشمہ پر قبضہ کر لیا جاوے۔میں اس چشمہ کو جانتا ہوں۔اس کا پانی بھی اچھا ہے اور عموما کافی مقدار میں ہوتا ہے۔آنحضرت صلی للی کلم نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور چونکہ ابھی تک قریش ٹیلے کے پرے ڈیرہ ڈالے پڑے تھے اور یہ چشمہ خالی تھا، مسلمان آگے بڑھ کر اس چشمہ پر قابض ہو گئے۔لیکن جیسا کہ قرآن شریف میں اشارہ پایا جاتا ہے اس وقت چشمہ میں بھی پانی زیادہ نہیں تھا اور مسلمانوں کو پانی کی قلت محسوس ہوتی تھی۔پھر یہ بھی تھا کہ وادی کے جس طرف مسلمان تھے وہ ایسی اچھی نہ تھی کیونکہ اس طرف ریت بہت تھی جس کی وجہ سے پاؤں اچھی طرح جھتے نہیں تھے پھر خدا کا فضل ایسا ہوا کہ کچھ بارش بھی ہو گئی جس سے مسلمانوں کو یہ موقع مل گیا کہ حوض بنا بنا کر پانی جمع کر لیں اور یہ بھی فائدہ ہو گیا کہ ریت جم گئی اور پاؤں زمین میں دھنے سے رک گئے اور دوسری طرف قریش والی جگہ میں کیچڑ کی سی صورت ہو گئی اور اس طرف کا پانی بھی کچھ گدلا ہو کر میلا ہو گیا۔"560 حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرئیل رسول اللہ صلی علی کم پر نازل ہوئے اور فرمایا کہ صحیح رائے یہی ہے جس کا حضرت حباب بن منذر نے مشورہ دیا۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اے حُباب! تم نے عقل کا مشورہ دیا۔خزرج کا جھنڈا اٹھائے ہوئے غزوہ بدر میں خزرج کا جھنڈا حضرت حباب بن منذر کے پاس تھا۔حضرت محباب بن منذر کی عمر 33 سال تھی جب غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔561 ان کے بارے میں مزید حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرۃ خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ " جب آنحضرت صلی للی کم کو اپنے مخبروں سے لشکر قریش کے قریب آجانے کی اطلاع موصول ہوئی تو آپ نے اپنے ایک صحابی حباب بن مُنذر کو روانہ فرمایا کہ وہ جا کر دشمن کی تعد اد اور طاقت کا پتہ لائیں اور آپ نے انہیں تاکید فرمائی کہ اگر دشمن کی طاقت زیادہ ہو اور مسلمانوں کے لئے خطرہ کی صورت ہو تو واپس آکر مجلس میں اس کا ذکر نہ کریں " کہ بہت بڑی تعداد ہے " بلکہ علیحد گی میں اطلاع دیں تاکہ اس سے " مسلمانوں میں " کسی قسم کی بددلی نہ پھیلے۔محباب خفیہ خفیہ گئے اور نہایت ہوشیاری سے تھوڑی دیر میں ہی واپس آکر آنحضرت صلی ا یکم سے سارے حالات عرض کر دیئے۔56211