اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 224
تاب بدر جلد 4 224 حضرت سید زین العابدین شاہ صاحب نے بخاری کی شرح میں لکھا ہے کہ اس واقعہ کی تفصیل سے قبل امام بخاری نے یہ قرآنی آیت لکھی ہے کہ لَا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَعَدُوكُمْ اَولیاء کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو میرے دشمن اور اپنے دشمن کو کبھی دوست نہ بناؤ۔حضرت علی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلیالم نے مجھے زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا۔آپ نے فرمایا تم چلے جاؤ جب تم روضتہ طاخ ایک جگہ ہے وہاں پہنچو تو وہاں ایک شتر سوار عورت ہو گی اور اس کے پاس ایک خط ہے تم وہ خط اس سے لے لو۔ہم چل پڑے۔ہمارے گھوڑے سرپٹ دوڑتے ہوئے ہمیں لے گئے۔جب ہم روضَة تخان میں پہنچے تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک شتر سوار عورت موجود ہے۔ہم نے اسے کہا کہ خط نکالو۔وہ کہنے لگی کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ہم نے کہا تمہیں خط نکالنا ہو گا ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے اور تلاشی لیں گے۔اس پر اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا اور ہم وہ خط رسول اللہ صلی علیکم کے پاس لے آئے۔دیکھا تو اس میں لکھا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ کے مشرکوں کے نام۔وہ رسول اللہ صلی علیکم کے کسی ارادے کی ان کو اطلاع دے رہا تھا۔رسول اللہ صلی علیم نے حاطب بن ابی بلتعہ کو بلایا اور پوچھا حاطب یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا یار سول اللہ میرے متعلق جلدی نہ فرمائیں۔میں ایک ایسا آدمی تھا جو قریش میں آکر مل گیا تھا ان میں سے نہ تھا۔اور دوسرے مہاجرین جو آپ صلی تعلیم کے ساتھ تھے ان کی مکہ میں رشتہ داریاں تھیں جن کے ذریعہ سے وہ اپنے گھر بار اور مال و اسباب کو بچاتے رہے ہیں۔میں نے چاہا کہ ان مکہ والوں پر کوئی احسان کر دوں کیونکہ ان میں کوئی رشتہ داری تو میری تھی نہیں شاید وہ اس احسان ہی کی وجہ سے میرا پاس کریں۔اور میں نے کسی کفر یا ارتداد کی وجہ سے یہ نہیں کیا۔نہ میں نے انکار کیا ہے۔نہ مرتد ہو اہوں۔نہ میں نے اسلام کو چھوڑا ہے۔نہ میں منافق ہوں۔میں نے یہ کام اس لئے نہیں کیا۔) اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کبھی پسند نہیں کیا جا سکتا۔( میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔) یہ سن کر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اس نے تم سے بیچ بیان کیا ہے۔حضرت عمر وہاں موقع پر موجود تھے۔انہوں نے کہا یارسول اللہ مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔قتل کر دوں۔آپ صلی علی کم نے فرمایا کہ یہ تو جنگ بدر میں موجود تھا اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو دیکھا اور فرمایا جو تم چاہو کرو میں نے تمہارے گناہوں کی پردہ پوشی 537 کر دی ہے۔حضرت ولی اللہ شاہ صاحب صحیح بخاری کی ایک اور حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ایک اور حدیث میں اس عورت کو مشرکہ کہا گیا ہے اور اس کے تعاقب میں جانے والے حضرت علی، حضرت ابومرشد غنوی اور حضرت زبیر تھے۔اسی طرح لکھا ہے کہ وہ عورت اپنے اونٹ پر سوار چلی جارہی تھی۔خط کے چھپانے کے متعلق دوسری روایت میں لکھا ہے کہ جب اس نے ہمیں سنجیدہ دیکھا تو وہ اپنی کمر پر بندھی ہوئی چادر کی طرف جھکی اور خط نکال کر رکھ دیا۔ہم اس عورت کو لے کر رسول اللہ صلی العلیم کے پاس آئے۔حضرت عمرؓ نے کہا اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں سے خیانت کی ہے۔یارسول اللہ مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اڑا دوں۔آپ نے فرمایا کیا وہ (یعنی حاطب بن ابی بلتعہ ) جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے نہیں تھا؟ آپ نے فرمایا امید ہے اللہ نے اہل بدر کو دیکھا ہو اور یہ کہا ہو جو تم