اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 210 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 210

اصحاب بدر جلد 4 210 چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسی معاہدے کے ماتحت یہودی لوگ اپنے مقدمات وغیرہ آنحضرت صلی کم کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور آپ ان میں احکام جاری فرماتے تھے۔اب ان حالات کے ہوتے ہوئے کعب نے تمام عہد و پیمان کو بالائے طاق رکھا، پیچھے کر دیا، چھوڑ دیا۔مسلمانوں سے بلکہ حق یہ ہے کہ حکومت وقت سے غداری کی۔یہاں مسلمانوں سے غداری کا سوال نہیں اس نے حکومت وقت سے غداری کی کیونکہ آنحضرت صلی یکی سر براہ حکومت تھے اور مدینہ میں فتنہ و فساد کا بیج بویا اور ملک میں جنگ کی آگ مشتعل کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب کو خطرناک طور پر ابھارا اور مسلمانوں کی عورتوں پر اپنے جوش دلانے والے اشعار میں تشبیب بھی کہی۔پھر آنحضرت صلی اللہ ایم کے قتل کے منصوبے کئے۔یہ سب کچھ ایسی حالت میں کیا کہ مسلمان پہلے سے ہی جو چاروں طرف سے مصائب میں گرفتار تھے ان کے لئے سخت مشکل حالات پیدا کر دیئے اور ان حالات میں کعب کا جرم بلکہ بہت سے جرموں کا مجموعہ ایسا نہ تھا کہ اس کے خلاف کوئی تعزیری قدم نہ اٹھایا جائے۔چنانچہ یہ قدم اٹھایا گیا اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ آجکل مہذب کہلانے والے ممالک میں بغاوت اور عہد شکنی اور اشتعال جنگ اور سازش قتل کے جرموں میں مجرموں کو قتل کی سزادی جاتی ہے پھر اعتراض کس چیز کا۔اور پھر دوسراسوال قتل کے طریق کا ہے کہ اس کو خاموشی سے کیوں رات کو مارا گیا؟ تو اس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ یادر کھنا چاہئے کہ عرب میں اس وقت کوئی باقاعدہ سلطنت نہیں تھی۔ایک سربراہ تو مقرر کر لیا تھا، لیکن صرف اسی کا فیصلہ نہیں ہو تا تھا بلکہ اگر اپنے اپنے فیصلے کرنا چاہے تو ہر شخص اور ہر قبیلہ آزاد اور خود مختار بھی تھا۔مجموعی طور پر مشترکہ فیصلے ہوتے تو آنحضرت صلی علیم کے پاس آتے تھے اور اگر اپنے طور پر قبیلوں نے کرنے ہوتے تو وہ بھی ہوتے تھے۔تو ایسی صورت میں وہ کون سی عدالت تھی جہاں کعب کے خلاف مقدمہ دائر کر کے باقاعدہ قتل کا حکم حاصل کیا جاتا۔کیا یہود کے پاس شکایت کی جاتی جن کا وہ سردار تھا اور جو خود مسلمانوں سے غداری کر چکے تھے، آئے دن فتنے کھڑے کرتے رہتے تھے ؟ اس لئے یہ سوال ہی نہیں پید ا ہو تا کہ یہود کے پاس جایا جاتا۔قبائل سکیم اور غطفان سے دادرسی چاہی جاتی جو گزشتہ چند ماہ میں تین چار دفعہ مدینہ پر چھاپہ مارنے کی تیاری کر چکے تھے ؟ وہ بھی ان کے قبیلے تھے تو ظاہر ہے کہ ان سے بھی کوئی انصاف نہیں ملنا تھا۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ اس وقت کی حالت پر غور کرو اور پھر سوچو کہ مسلمانوں کے لئے سوائے اس کے وہ کون ساراستہ کھلا تھا کہ جب ایک شخص کی اشتعال انگیزی اور تحریک جنگ اور فتنہ پردازی اور سازش قتل کی وجہ سے اس کی زندگی کو اپنے لئے اور ملک کے امن کے لئے خطرہ پاتے ہوئے خود حفاظتی کے خیال سے موقع پا کر اسے قتل کر دیتے کیونکہ یہ بہت بہتر ہے کہ ایک شریر اور مفسد آدمی قتل ہو جاوے بجائے اس