اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 173
اصحاب بدر جلد 4 173 متعلق درخواست کی اور کہا کہ میں حبشی ہوں اگر چاہو تو رشتہ نہ دو اور اگر رسول کریم صلی یکم کا صحابی سمجھ کر مجھے رشتہ دے دو تو بڑی مہربانی ہو گی۔انہوں نے رشتہ دے دیا اور وہ شام میں ہی ٹھہر گئے۔بہر حال پہلے بھی ان کی شادیاں تھیں۔ہو سکتا ہے پہلی بیویاں فوت ہو گئی تھیں یا ساتھ جانے والی کوئی نہیں تھی یا شام میں شادی کرنا چاہتے تھے۔لیکن بہر حال یہ تھوڑی وضاحت یہاں ہو جائے کہ شادیاں ان کی پہلے تھیں۔گو کہ حضرت مصلح موعودؓ نے یہ لکھا ہے۔باقی روایتیں بھی یہی کہتی ہیں کہ ان کو کوئی رشتہ نہیں دیتا تھا۔کس سیاق وسباق کے تحت لکھا اللہ بہتر جانتا ہے۔بہر حال وہاں انہوں نے رشتہ مانگا۔وہاں ان کی شادی ہو گئی اور وہ شام میں ٹھہر گئے۔جو اصل چیز ہے وہ یہی ہے جو آگے رو یا کا ذکر ہے۔شادی تو ایک ضمنی بات آگئی۔اے بلال تم ہم کو بھول گئے۔۔۔۔! حضرت مصلح موعودؓ نے یہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی یک رویا میں ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا بلال ! تم ہم کو بھول ہی گئے۔کبھی ہماری قبر کی زیارت کرنے کے لیے نہیں آئے۔وہ اسی وقت اٹھے اور سفر کا سامان تیار کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور رسول کریم صلی علیم کی قبر پر رو رو کر دعا کی۔اس وقت ان کو اتنی رقت پیدا ہوئی کہ لوگوں میں عام طور پر مشہور ہو گیا کہ بلال آئے ہیں۔حضرت حسن اور حسین جو اس وقت بڑے ہو چکے تھے دوڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے آپ رسول کریم صلی الم کے زمانے میں اذان دیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا ہاں۔تو کہنے لگے ہمیں بھی اپنی اذان سنائیں۔چنانچہ انہوں نے اذان دی اور لوگوں نے سنی۔3 حضرت عمر نے جب اپنے دورِ خلافت میں شام میں وظیفے کے لیے دفتر مرتب کروائے یعنی اکاؤنٹ کے رجسٹر وغیرہ بنوائے، کھاتے وغیرہ بنوائے اور سارا ریکارڈ مکمل کروایا تو حضرت بلال شام چلے گئے اور وہیں مجاہدین کے ساتھ مقیم ہو گئے۔حضرت عمر نے حضرت بلال سے پوچھا کہ اے بلال ! تم اپنے وظیفے کا دفتر کس کے پاس رکھو گے۔یعنی اپنے حساب کتاب کی نمائندگی کس کے سپر د کرنا چاہتے ہو۔کون ہو گا تمہارا نمائندہ یہاں ؟ تو انہوں نے جواب دیا ابور و نیچے کے پاس جن کو میں اس اخوت کی وجہ سے کبھی نہ چھوڑوں گاجور سول اللہ صلی العلیم نے میرے اور ان کے درمیان قائم فرمائی تھی۔134 433 آپ کی صاف گوئی حضرت بلال کی صاف گوئی کا واقعہ ایک روایت میں یوں ملتا ہے۔عمرو بن میمون اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت بلال کے ایک بھائی خود کو عرب کی طرف منسوب کرتے تھے اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ انہی میں سے ہیں۔انہوں نے عرب کی ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا کہ اگر حضرت بلال آئیں تو ہم تم سے نکاح کر دیں گے۔حضرت بلال آئے اور تشہد پڑھا۔پھر کہا کہ میں بلال بن رباح ہوں اور یہ میر ابھائی ہے اور یہ اخلاق اور دین کے لحاظ سے اچھا آدمی نہیں ہے اگر تم اس