اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 170 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 170

170 اصحاب بدر جلد 4 سے انتقام لیا ؟ جب مکہ فتح ہوا تورسول کریم صلی العلیم نے بلال کے ہاتھ میں ایک جھنڈ ادے دیا اور اعلان کر دیا کہ اے مکہ کے سردارو! اگر اب تم اپنی جانیں بچانا چاہتے ہو تو بلال کے جھنڈے کے نیچے آکر کھڑے ہو جاؤ۔گویا وہ بلال جس کے سینے پر مکہ کے بڑے بڑے سردار ناچا کرتے تھے اس کے متعلق رسول کریم صلی الم نے مکہ والوں کو بتایا کہ آج تمہاری جانیں اگر بچ سکتی ہیں تو اس کی یہی صورت ہے کہ تم بلال کی غلامی میں آجاؤ حالا نکہ بلال غلام تھا اور وہ چوہدری تھے۔پس ہر جگہ یہی نتیجہ ہے۔چاہے جھنڈا ان کے بھائی کے سپرد کیا تب بھی بلال کو ساتھ کیا۔بلال کے نام پر جھنڈا کیا تب بھی اور بلال کے ہاتھ میں دیا تو نتیجہ وہی ہے۔تھوڑے سے فرق کے ساتھ واقعاتی طور پر ایک ہی بات بیان ہو رہی ہے اور نتیجہ بھی وہی نکالا جا رہا ہے۔4256 عید کے دن رسول اللہ صلی الم کے آگے آگے چلنے والے بلال رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ عید کے دن رسول اللہ صلی ا یکم کے آگے آگے نیزے کو لے کر چلا جاتا تھا۔عید والے دن ایک شخص آگے چلتا تھا اس کے ہاتھ میں نیزہ ہو تا تھا اور جس کو عموماً حضرت بلال اٹھائے ہوئے ہوتے تھے۔محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال اسے آنحضرت صلی ایم کے سامنے گاڑ دیتے تھے۔اس زمانے میں عید گاہ میدان ہو تا تھا۔کھلا میدان تھا وہی عید گاہ تھی نجاشی کے بھیجے ہوئے تین نیزے 426 ایک روایت ہے کہ نجاشی حبشہ نے رسول اللہ صلی اللی کم کو تین نیزے تحفے میں بھیجے تھے۔ایک نبی کریم صلی الی یکم نے رکھ لیا۔ایک حضرت علی بن ابو طالب کو دیا اور ایک حضرت عمر بن خطاب کو دیا۔حضرت بلال اس نیزے کو جو رسول اللہ صلی علیم نے اپنے لیے رکھا تھا عیدین میں آپ کے آگے آگے لے کر چلتے تھے یہاں تک کہ اسے آپ کے آگے گاڑ دیتے اور آپ اسی کی طرف نماز پڑھتے۔رسول اللہ صلی للی نیم کی وفات کے بعد حضرت بلال اسی طرح اس نیزے کو حضرت ابو بکر کے آگے لے کر چلا کرتے تھے۔427 میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرے پاس ٹھہر جاؤ آنحضرت علی علیکم کی وفات کے بعد روایات میں یہی آتا ہے کہ حضرت بلال جہاد میں شامل ہونے کے لیے شام کی طرف چلے گئے تھے۔رسول اللہ صلی علی یم کی وفات کے بعد اس طرح بیان ہوا ہے کہ حضرت بلال حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور کہا کہ اے خلیفہ رسول ! میں نے رسول اللہ صلی ا ہم کو فرماتے سنا ہے کہ مومن کا سب سے افضل عمل اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا بلال تم کیا چاہتے ہو ؟ حضرت بلال نے جواب دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے اللہ کے رستہ میں جہاد کے لیے بھیج دیا جائے یہاں تک کہ میں مارا جاؤں۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ بلال میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اور اپنی حرمت اور حق یاد دلاتا ہوں کہ میں بوڑھا اور ضعیف ہو گیا ہوں۔میری موت کا وقت قریب آگیا ہے