اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 139

اصحاب بدر جلد 4 139 جاہلیت کے گمانوں کی طرح ناحق گمان کر رہے تھے۔وہ کہہ رہے تھے کہ کیا اہم فیصلوں میں ہمارا بھی کوئی عمل دخل ہے ؟ تو کہہ دے کہ یقینا فیصلے کا اختیار کلیۂ اللہ ہی کو ہے۔حضرت کعب بن عمر و انصاری نے بیان کیا ہے کہ غزوہ احد کے دن ایک موقع پر میں اپنی قوم کے 14 آدمیوں کے ساتھ آنحضرت صلی علی ایم کے پاس تھا اس پر ہم پر اونگھ طاری تھی۔جو بطور امن کے تھی یعنی بڑی سکون والی اونگھ تھی۔جنگی حالت تھی لیکن وہ ایسی اونگھ تھی جو ہمیں سکون دے رہی تھی۔کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے سینے سے دھونکنی کی طرح خراٹوں کی آواز نہ نکل رہی ہو۔بعض دفعہ ایسی گہری حالت بھی ہو گئی تھی۔کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ بشر بن براء بن معرور جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی اور انہیں تلوار کے گرنے کا احساس بھی نہ ہو ا حالانکہ مشرکین ہم پر چڑھے آرہے تھے۔354 حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی تفسیر بہر حال ہو سکتا ہے کہ یہ ان کو محسوس ہوا ہو کہ گر گئی کیونکہ اس وقت ایسی حالت میں نیند تو تھی۔لیکن ان کے ہاتھوں میں جو ہتھیار تھے مضبوطی سے قائم ہوتے تھے یا گرنے لگتے تھے تو جھٹکا لگتا تھا۔بہر حال یہاں لفظ نعاس استعمال ہوا ہے اس کی جو وضاحت، تشریح، ہے وہ اپنے ایک درس میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے بڑی تفصیل سے فرمائی تھی کہ آمَنَةً نُّعَاسًا مختلف پہلوؤں سے اس کے جو تراجم ہیں ان کا خلاصہ یہ معنی بنے گا کہ غم کے بعد تم پر ایسا سکون نازل فرمایا جسے نیند کہہ سکتے ہیں یا ایسی اونگھ عطا کی جو امن کی حامل تھی یا وہ امن دیا جو نیند کا سا اثر رکھتا تھا یا نیند میں شامل تھا۔یہ آمَنَةً نُعَاسًا کا یہ مطلب ہے۔اونگھ وقتی طور پر یوں سر جھکا کر غوطہ کھا جانے کو بھی کہتے ہیں لیکن یہاں نعاس کا معنی اس قسم کی اونگھ نہیں ہے بلکہ وہ کیفیت ہے جو بیداری اور نیند کے درمیان کی کیفیت ہوتی ہے۔سونے سے پہلے ایک بیچ کی ایسی منزل آتی ہے جہاں تمام اعصاب کو ایک سکون مل جاتا ہے اور وہی گہر اسکون ہے اگر وہ سکون اسی طرح جاری رہے تو پھر نیند میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ایسی حالت میں انسان اگر چل رہا ہے تو گرے گا نہیں۔گرنے سے پہلے اسے جھٹکا لگ جاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ میں کس کیفیت میں تھا۔لیکن اگر نیند آجائے تو پھر اپنے اعصاب پر ، اپنے اعضا پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔بہر حال ہو سکتا ہے بشر بن براء کو اس حالت میں اس طرح کی گہری نیند بھی آگئی ہو۔لیکن باوجود جنگ کی حالت کے وہ تھی سکون کی کیفیت اور انسان گر جاتا ہے اور اگر اس کو صحیح بھی مانا جائے تو اسی وجہ سے ان کے ہاتھ ذراڈ ھیلے ہوئے تو تلوار گر گئی۔بہر حال یہ حالت ایسی ہوتی ہے جس میں فوری احساس بھی ہو جاتا ہے کہ میں گہری نیند میں جارہا ہوں اور پھر انسان جھٹکے سے جاگ جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں ایک ایسی سکون کی حالت عطا کی جو نیند سے مشابہ تھی مگر نیند کی طرح اتنی گہری نہیں تھی کہ تمہیں اپنے اوپر اپنے اعضاء پر کوئی اختیار نہیں رہے۔وہ سکینت تو بخش رہی تھی مگر تمہیں بے کار نہیں کر رہی تھی۔