اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 130
تاب بدر جلد 4 130 میں مجھے فرمار ہے تھے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کر۔وہ تیرا چازاد بھائی بھی ہے۔مجھے اپنی بات پر اصرار رہا یہاں تک کہ قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔انہوں نے کہا ماں کس طرح ہو سکتی ہے۔وہ تمہارا چازاد بھائی بھی ہے اور تم اس کی بیوی ہو۔کہتی ہیں میں نے بہر حال اس بات پر اصرار کیا یہاں تک کہ قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی کہ قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِى تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا الجاد : 2) کہ اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی۔333 آپ مصلی تعلیم نے فرمایاوہ یعنی تیر اخاوند ایک غلام آزاد کرے۔اب اس کی سزا یہ ہے جو آیت میں بیان ہوئی جس طرح قرآن شریف کا حکم ہے۔اس کے بعد ساری تفصیل ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے کہ ایک غلام کو آزاد کرو۔کہتی ہیں میں نے اس پہ عرض کیا کہ اس میں اس کی طاقت نہیں۔کہاں سے لے ؟ وہ تو غریب آدمی ہے۔آپ نے فرمایا پھر دو مہینے کے لگاتار روزے رکھے۔میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! اس کی عمر ایسی ہے کہ وہ لگاتار روزے بھی نہیں رکھ سکتا۔اس کی اس میں سکت نہیں ہے۔تو آپ نے فرمایا۔پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ اس کے پاس تو مال بھی کوئی نہیں ہے۔اس کے پاس کچھ نہیں ہے جس سے وہ صدقہ دے۔حویلہ کہتی ہیں میں بیٹھی ہوئی تھی کہ تبھی اس وقت کھجور کا ایک تھیلا آیا، آنحضرت صلی ال کم کی خدمت میں کسی نے پیش کیا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں کھجوروں کے دوسرے تھیلے کے ساتھ اس کی مدد کروں گی یعنی اگر یہ مجھے مل جائے تو ایک اور تھیلے کا انتظام ہو سکتا ہے۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔جا اس کو لے جا۔یہ تھیلا لے جاؤ اور اس میں سے اس کی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اور پھر اپنے چچا کے بیٹے کے پاس جاؤ۔3 یعنی اپنے خاوند کے پاس جاؤ۔تم اس کے کہنے سے کوئی ماں واں نہیں بنی۔ان صحابہ کی سیرت بیان ہوتی ہے تو بعض مسائل بھی ساتھ ساتھ حل ہو جاتے ہیں۔حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ سب سے پہلا ظہار جو اسلام میں ہوا۔یعنی بیوی کو ماں کہنے کا وہ یہی حضرت اوس بن صامت کا تھا۔ان کے نکاح میں ان کے چا کی بیٹی تھی ان سے انہوں نے ظہار کیا تھا۔334 بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ حدود قائم کی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی یہ معاملہ پیش ہوا۔آپ نے فرمایا کہ اس کی یہی سزا ہے۔خلیفہ ثانی کے زمانہ میں اسی طرح ایک معاملہ پیش ہوا آپ نے فرمایا یہی سزا ہے۔اور سوائے اس کے کہ کوئی بہت ہی غریب ہے اور طاقت نہیں ہے تو پھر وہ استغفار کرے اور جس حد تک سکت ہے ، پہنچ ہے وہ اس کی سزا میں دے۔تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے بیوی کو ماں یا بہن کہنے کے لئے حدود قائم کی ہیں۔بعضوں کو عادت ہوتی ہے ہر ذرا سی بات پر لا رلڑائیاں ہوئیں تو کہہ دیا کہ میرے پہ حرام ہو گئی یا یہ ہو گیا تو تم میری ماں کی طرح ہو تم فلاں ہو یا قسم کھالی۔تو یہ سب قسمیں ہیں اور ان پر حدود قائم ہوتی ہیں۔اگر کوئی یہ کہتا ہے تو اس کو یہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ غلام کو آزاد کرو یاروزے رکھو یا مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔