اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 101
101 اصحاب بدر جلد 4 شہروں نے بغاوت کر دی۔حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمر کو امدادی کمک کے لیے لکھا۔حضرت عمرؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو فوراً کوفہ سے امدادی فوج بھیجنے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ حضرت سعد نے قعقاع بن عمرو کی زیر سر کر دگی ایک فوج کو فہ سے روانہ کی مگر اس کے باوجو د رومی لشکر اور مسلمانوں کے لشکر کی تعداد میں بہت زیادہ فرق تھا۔حضرت ابو عبیدہ نے لشکر کے سپاہیوں سے ایک جوشیلا خطاب کیا اور فرمایا کہ مسلمانو ! آج جو ثابت قدم رہ گیا اور اگر زندہ بچا تو ملک و مال اس کو ملے گا اور اگر مارا گیا تو شہادت کی دولت ملے گی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ مشرک نہ ہو تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔دونوں گروہوں میں جنگ ہوئی تو مسلمانوں کے مقابلے میں تھوڑی ہی دیر میں رومیوں کے پیر اکھڑ گئے اور وہ مرجُ الدِّيباج جو شام کے سرحدی علاقے پر ایک شہر مصیصہ ہے اس سے دس میل کے فاصلے پر ایک پہاڑی وادی کا نام ہے وہاں تک بھاگتے چلے گئے اور اس کے بعد کبھی قیصر کو شام کی طرف پیش قدمی کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔251 تباہ کن طاعون عمواس طاعون عمواس: یہ بھی ایک جگہ ہے جو رملہ سے بیت المقدس کے راستے پر چھ میل کے فاصلے پر ایک وادی ہے۔کتب تاریخ میں لکھا ہے کہ اسے طاعون عمواس اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں سے اس مرض کا آغاز ہوا تھا۔اس مرض سے شام میں لا تعداد اموات ہوئیں۔بعض کے نزدیک اس سے چھپیں ہزار کے قریب اموات ہوئیں۔اس کی تفصیل بخاری کی ایک روایت میں ملتی ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ر غ مقام یعنی سرغ وہ ہے جو شام اور حجاز کے سرحدی علاقے میں وادی تبوک کی ایک بستی ہے جو مدینے سے تیرہ راتوں کی مسافت پر ہے۔پرانی تاریخوں میں اس طرح ہی لکھا ہو تا تھا۔اس کا مطلب کوئی ہزار میل کے قریب ہو گا، وہاں پہنچے تو آپ کی ملاقات فوجوں کے امراء حضرت ابو عبیدہ اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی۔ان لوگوں نے حضرت عمررؓ کو بتایا کہ شام کے ملک میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔حضرت عمرؓ نے اپنے پاس مشورے کے لیے اولین مہاجرین کو بلایا۔حضرت عمرؓ نے ان سے مشورہ کیا مگر مہاجرین میں اختلاف رائے ہو گئی۔بعض کا کہنا تھا کہ یہاں سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے جبکہ بعض نے کہا کہ اس لشکر میں رسول اللہ صلی نیلم کے صحابہ کرام شامل ہیں اور ان کو اس وبا میں ڈالنا مناسب نہیں۔حضرت عمرؓ نے مہاجرین کو واپس بھجوا دیا اور انصار کو بلایا اور ان سے مشورہ لیا مگر انصار کی رائے میں بھی مہاجرین کی طرح اختلاف ہو گیا۔حضرت عمرؓ نے انصار کو بھیجوایا اور پھر فرمایا کہ قریش کے بوڑھے لوگوں کو بلاؤ جو فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے۔ان کو بلایا گیا۔انہوں نے ایک زبان ہو کر مشورہ دیا کہ ان لوگوں کو ساتھ لے کر واپس لوٹ چلیں اور وبائی علاقے میں لوگوں کو نہ لے کے جائیں۔حضرت عمرؓ نے ان لوگوں میں واپسی کا اعلان کروا دیا۔