اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 94 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 94

تاب بدر جلد 4 94 مقام میں جمع ہو کر مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔مسلمان ان کے بالمقابل محل مقام میں خیمہ زن ہوئے۔رومی فوج کے سپہ سالار نے صلح کی پیشکش کی خاطر اپنے سفیر کو حضرت ابو عبیدہ کی طرف بھیجا۔وہ جب اسلامی لشکر میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہاں ایک ہی طرح ادنی اور اعلی، افسر وماتحت، سپہ سالار اور سپاہی بیٹھے ہیں اور کوئی امتیاز اور فرق دکھائی نہیں دیا۔آخر اس نے مجبور ہو کر کسی سے پوچھا کہ آپ کا سپہ سالار کون ہے۔لوگوں نے ایک سیدھے سادھے شخص کی طرف اشارہ کیا جو زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔سفیر نے قریب جا کر کہا کہ آپ ہی اس کے سپہ سالار ہیں ؟ حضرت ابو عبیدہ نے کہا کہ ہاں۔سفیر نے پیشکش کی کہ اپنی فوج کو یہاں سے واپس لے جائیں اور اس کے بدلے میں آپ کے ہر سپاہی کو فی کس دو اشرفیاں سونے کی ملیں گی۔سپہ سالار کو ایک ہزار دینار ملیں گے اور تمہارے خلیفہ کو دو ہزار دینار دیے جائیں گے۔حضرت ابو عبیدہ نے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا ہم پیسے لینے نہیں آئے۔مال و دولت کی غرض سے نہیں آئے۔ہم اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے نکلے ہیں۔سفیر ان کو دھمکیاں دیتا ہو اوہاں سے واپس چلا گیا۔اس کے یہ تیور دیکھ کر حضرت ابو عبیدہ نے فوج کو تیاری کا حکم دیا اور اگلی صبح دونوں فوجوں میں جنگ ہوئی۔حضرت ابو عبیدہ خود فوج کے قلب یعنی درمیان میں تھے اور بڑی حکمت سے فوج کو لڑا رہے تھے یہاں تک کہ مسلمانوں نے باوجود قلیل تعداد ہونے کے رومیوں کو شکست دے دی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اردن کا تمام علاقہ مسلمانوں کے پاس آگیا۔245 فتح حمص فحل کی فتح کے بعد حضرت ابو عبیدہ نے حمص کی طرف پیش قدمی کی جو شام کا ایک مشہور شہر تھا اور جنگی اور سیاسی اہمیت رکھتا تھا۔راستے میں بعلبك شہر ، جو لبنان کا ایک قدیم شہر ہے، دمشق سے تین راتوں کی مسافت پر ہے۔وہاں سے گزر ہو ا جو ایک قدیم شہر تھا اور یہ بعل بت کی پرستش کا بہت بڑا مرکز رہ چکا تھا۔وہاں کے رہائشیوں نے حضرت ابو عبیدہ کا مقابلہ کرنے کی بجائے صلح کی درخواست کی جو جزیہ کی شرط کے ساتھ منظور کر لی گئی۔ان سے کوئی لڑائی، جنگ نہیں ہوئی۔اور قبول ہو گیا کہ وہ جزیہ دیں اور بے شک اپنے مذہب پر قائم رہیں۔حضرت ابو عبیدہ نے حمص کا رخ کیا اور اس کا محاصرہ کر لیا۔حضرت خالد بن ولید بھی آپ کے ساتھ تھے۔شہر والوں کو قیصر سے فوجی امداد کی امید تھی۔اس لیے وہ مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے۔مگر جب وہ امداد سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اور صلح کی درخواست کی جو منظور کرلی گئی۔صلح کے ساتھ انہیں جان ومال کی امان دی گئی اور ان کے عبادت خانے اور مکانات محفوظ قرار دیے گئے۔مکان بھی محفوظ، عبادت خانے بھی محفوظ اور جو اپنے مذہب پر قائم رہے ان پر جز سیم اور خراج عائد کیا گیا۔یعنی اپنے مذہب پر بے شک قائم رہو لیکن جزنیہ اور خراج دینا پڑے گا جو ایک