اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 86
86 اصحاب بدر جلد 4 جو مدینہ سے چوبیس میل کے فاصلہ پر تھا جہاں ان ایام میں بنو ثعلبہ آباد تھے۔حضرت محمد بن مسلمہ اور ان کے دس ساتھی رات کے وقت وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اس قبیلہ کے سو نوجوان جنگ کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔صحابہ کی جماعت سے یہ پارٹی تعداد میں دس گنا زیادہ تھی۔حضرت محمد بن مسلمہ نے فوراً اس لشکر کے سامنے صف آرائی کر لی۔اگر جنگ کی نیت سے گئے ہوتے تو اتنی تھوڑی تعداد میں نہ ہوتے۔اور فریقین کے درمیان رات کی تاریکی میں خوب تیر اندازی ہوئی۔اس کے بعد کفار نے صحابہ کی مٹھی بھر جماعت پر دھاوا بول دیا اور چونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی ایک آن کی آن میں یہ دس فدائیان اسلام خاک پر تھے۔یعنی شہید ہو گئے۔حضرت محمد بن مسلمہ کے ساتھی تو سب شہید ہو گئے مگر خود حضرت محمد بن مسلمہ بچ گئے کیونکہ کفار نے انہیں دوسروں کی طرح مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا اور ان کے کپڑے وغیرہ اتار کرلے گئے۔غالباً حضرت محمد بن مسلمہ بھی وہاں پڑے پڑے فوت ہو جاتے مگر حسن اتفاق سے ایک اور مسلمان کا وہاں سے گزر ہوا اور اس نے حضرت محمد بن مسلمہ کو پہچان کر انہیں اُٹھا کر مدینہ پہنچادیا۔آنحضرت صلی الله علم کو جب ان حالات کا علم ہوا تو آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو جو قریش میں سے تھے اور کبار صحابہ میں شمار ہوتے تھے حضرت محمد بن مسلمہ کے انتقام کے لیے ذوالقصہ کی طرف روانہ فرمایا اور چونکہ اس عرصہ میں یہ بھی اطلاع موصول ہو چکی تھی کہ قبیلہ بنو ثعلبہ کے لوگ مدینہ کے مضافات پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں اس لیے آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جزاح کی کمان میں چالیس مستعد صحابہ کی جماعت بھجوائی اور حکم دیا کہ راتوں رات سفر کر کے صبح کے وقت وہاں پہنچ جائیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے تعمیل ارشاد میں یلغار کر کے عین صبح کی نماز کے وقت انہیں جاد بایا اور وہ اس اچانک حملہ سے گھبر ا کر تھوڑے سے مقابلہ کے بعد بھاگ نکلے اور قریب کی پہاڑیوں میں غائب ہو گئے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے مالِ غنیمت پر قبضہ کیا اور مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔231 یہ حملہ ظلم کا بدلہ لینے کے لیے یا سزا دینے کے لیے کیا گیا تھا۔سریہ ذات السلاسل دوسری جو ایک جنگ تھی اس کا نام ذات السلاسل تھا۔اس سریہ کو ذات السلاسل کہنے کی وجہ یہ ہے کہ دشمنوں نے اس خوف سے آپس میں ایک دوسرے کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا کہ وہ اکٹھے ہو کر لڑ سکیں اور کوئی بھاگ نہ سکے۔ایک صف بنا کر لڑ سکیں یا جس طرح بھی صفیں بنی تھیں اکٹھے اکٹھے رہیں۔اس کی ایک اور وجہ بھی ملتی ہے کہ اس جگہ پر ایک چشمہ تھا جس کا نام السّلسَل تھا۔بعض کے نزدیک آٹھ ہجری اور بعض کے نزدیک سات ہجری میں رسول اللہ صلی اللی کم کو خبر ملی کہ قبیلہ بنو قضاعہ کے لوگ ینے پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔آپ صلی اللہ ہم نے حضرت عمرو بن عاص کو تین سو مہاجرین اور انصار کے ساتھ اس کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا جن کے ہمراہ تیس گھوڑے تھے۔یہ جگہ مدینے سے دس دن کی مسافت پر تھی۔حضرت عمرو