اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 41
محاب بدر جلد 3 41 حضرت عمر بن خطاب ہوں۔عمر نے کہا: کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں ضرور ایسا ہی ہے۔عمر نے کہا تو پھر ہم اپنے سچے دین کے معاملہ میں یہ ذلت کیوں برداشت کریں؟ آپ نے حضرت عمر کی حالت کو دیکھ کر مختصر الفاظ میں فرمایا دیکھو عمرہ میں خدا کا رسول ہوں اور میں خدا کے منشاء کو جانتا ہوں اور اس کے خلاف نہیں چل سکتا اور وہی میرا مددگار ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ ہی میر امدد گار ہے۔”مگر حضرت عمر کی طبیعت کا تلاطم لحظہ بہ لحظہ بڑھتا جارہا تھا۔کہنے لگے کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف کریں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں میں نے ضرور کہا تھا مگر کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ طواف ضرور اسی سال ہو گا ؟ عمر نے کہا نہیں ایسا تو نہیں کہا۔آپ نے فرمایا تو پھر انتظار کر و تم انشاء اللہ ضرور مکہ میں داخل ہو گے اور کعبہ کا طواف کرو گے۔مگر اس جوش کے عالم میں حضرت عمرؓ کی تسلی نہیں ہوئی لیکن چونکہ آنحضرت صلی الم کا خاص رعب تھا اس لئے حضرت عمرؓ وہاں سے ہٹ کر حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور ان کے ساتھ بھی اسی قسم کی جوش کی باتیں کیں۔حضرت ابو بکر نے بھی اسی قسم کے جواب دیئے مگر ساتھ ہی حضرت ابو بکڑ نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا۔دیکھو عمر سنبھل کر رہو اور رسولِ خدا کی رکاب پر جو ہاتھ تم نے رکھا ہے اسے ڈھیلا نہ ہونے دو کیونکہ خدا کی قسم یہ شخص جس کے ہاتھ میں ہم نے اپنا ہاتھ دیا ہے بہر حال سچا ہے۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ اس وقت میں اپنے جوش میں یہ ساری باتیں کہہ تو گیا مگر بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی اور میں تو بہ کے رنگ میں اس کمزوری کے اثر کو دھونے کے لئے بہت سے نفلی اعمال بجالایا۔یعنی صدقے کئے ، روزے رکھے، نفلی نمازیں پڑھیں اور غلام آزاد کئے تاکہ میری اس کمزوری کا داغ دھل جائے۔“ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے جلسہ پر اپنی خلافت سے پہلے ایک تقریر کی تھی۔جلسہ پر تقریر کیا کرتے تھے۔اُس کا اِس تعلق میں ایک حصہ میں بیان کرتا ہوں۔کہتے ہیں کہ ”اس میں کوئی شبہ نہیں کہ درد و کرب کی وہ چیخ جو سوال بن کر حضرت عمر کے دل سے نکلی دوسرے بہت سے سینوں میں بھی گھٹی ہوئی تھی۔اگر چہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جن جذبات کو عمرؓ نے زبان دی وہ صرف ایک عمر ہی کے جذبات نہیں بلکہ اوروں کے بھی تھے اور سینکڑوں سینوں میں اسی قسم کے خیالات ہیجان بپاکئے ہوئے تھے لیکن حضرت عمرؓ نے جو ان کے اظہار کی جرآت کی، یہ ایک ایسی چوک ہو گئی کہ بعد ازاں عمر بھر حضرت عمرؓ اس سے پشیمان رہے۔بہت روزے رکھے۔بہت عبادتیں کیں۔بہت صدقات دیئے اور استغفار کرتے ہوئے سجدہ گاہوں کو تر کیا لیکن پشیمانی کی پیاس نہ بجھی۔حدیبیہ کا اضطراب تو عارضی تھا جسے بہت جلد آسمان سے نازل ہونے والی رحمتوں نے طمانیت میں بدل دیا مگر وہ اضطراب جو اس بے صبری کے سوال نے عمر کے دل میں پیدا کیا وہ ایک دائمی اضطراب بن گیا جس نے کبھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ہمیشہ حسرت سے یہی کہتے رہے کہ کاش میں نے آنحضور سے وہ سوال نہ کیا ہو تا۔“ کہتے ہیں کہ بار ہا میں یہ سوچتا ہوں کہ بستر مرگ پر آخری سانسوں میں حضرت عمر جب لالي ولا على کاورد کر رہے 84<<