اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 471 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 471

محاب بدر جلد 3 471 حضرت علی محض دینی ضرورت کے سبب تم کو پکڑتا تھا۔لیکن جب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا اور اس میں مجھے غصہ آیا تو میں نے خیال کیا کہ یہ اب نفسانی بات درمیان میں آگئی ہے۔اب اس کو کچھ کہنا جائز نہیں تا کہ ہمارا کوئی کام نفس کے واسطے نہ ہو۔جو ہو سب اللہ تعالیٰ کے واسطے ہو۔جب میری اس حالت میں تغیر آئے گا اور یہ غصہ دور ہو جائے گا تو پھر وہی سلوک تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔اس بات کو سن کر کافر کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ تمام کفر اس کے دل سے خارج ہو گیا اور اس نے سوچا کہ اس سے بڑھ کر اور کون سادین دنیا میں اچھا ہو سکتا ہے جس کی تعلیم کے اثر سے انسان ایسا پاک نفس بن جاتا ہے۔پس اس نے اسی وقت توبہ کی اور مسلمان ہو گیا۔931 پس یہ ہے اصل تقویٰ جو نتیجہ بھی دکھاتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی کم و بیش اس یہودی کی حضرت علی سے لڑائی کے واقعہ کو اسی طرح بیان فرمایا ہے۔فرماتے ہیں کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک لڑائی میں شامل تھے۔ایک بہت بڑا دشمن جس کا مقابلہ بہت کم لوگ کر سکتے تھے آپ کے مقابلہ پر آیا اور کئی گھنٹے تک آپ کی اور اس یہودی پہلو ان کی لڑائی ہوتی رہی۔آخر کئی گھنٹے کی لڑائی کے بعد آپ نے اس یہودی کو گر الیا اور اس کے سینہ پر بیٹھ گئے اور ارادہ کیا کہ خنجر سے اس کی گردن کاٹ دیں کہ اچانک اس یہودی نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔آپ فوراً اسے چھوڑ کر سیدھے کھڑے ہو گئے اور وہ یہودی سخت حیران ہوا اور کہنے لگا یہ عجیب بات ہے کہ کئی گھنٹے کی کشتی کے بعد آپ نے مجھے گرایا ہے اور اب یکدم مجھے چھوڑ کر الگ ہو گئے ہیں۔یہ آپ نے کیسی بیوقوفی کی ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا: میں نے بیوقوفی نہیں کی بلکہ جب میں نے تمہیں گرایا اور تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو یکدم میرے دل میں غصہ پیدا ہوا کہ اس نے میرے منہ پر کیوں تھوکا ہے مگر ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ اب تک تو میں جو کچھ کر رہا تھا خدا کے لئے کر رہا تھا اگر اس کے بعد میں نے لڑائی جاری رکھی تو تیرا خاتمہ میرے نفس کے غصہ کی وجہ سے ہو گا۔“ یعنی حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اس یہودی کو ختم کرنا میرے ذاتی غصہ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے ”خدا کی رضا کے لئے نہیں ہو گا۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس وقت میں تجھے چھوڑ دوں۔جب غصہ جاتا رہے گا تو پھر خدا کے لئے میں تجھے گرالوں گا۔“ 932 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” حضرت امام حسین صاحب نے ایک دفعہ سوال کیا یعنی حضرت علی سے ”کہ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا ہاں۔حضرت حسین علیہ السلام نے اس پر بڑا تعجب کیا اور کہا کہ ایک دل میں دو محبتیں کس طرح جمع ہو سکتی ہیں ؟ پھر حضرت امام حسین علیہ السلام نے کہا کہ وقت مقابلہ پر آپ کس سے محبت کریں گے؟ فرمایا ( حضرت علیؓ نے فرمایا ”اللہ سے۔933 اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ: ”حضرت حسنؓ نے