اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 461
ناب بدر جلد 3 461 حضرت علی بن علی بیان کرتے ہیں کہ میں صبح سویرے حضرت علی کے پاس آکر بیٹھ گیا۔اس وقت حضرت علی نے فرمایا: میں رات بھر اپنے گھر والوں کو جگا تا رہا پھر بیٹھے بیٹھے میری آنکھوں پر نیند غالب آگئی تو خواب میں رسول اللہ صلی ا تم کو دیکھا۔میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یعنی حضرت علی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ کی اُمت کی طرف سے ٹیڑھے پن اور شدید جھگڑے کا سامنا ہے۔آپ صلی علی کرم نے فرمایا: ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔میں نے کہا: اے اللہ ! مجھے ان کے بدلے میں وہ دے جو ان سے بہتر ہو اور ان کو میرے بدلے وہ دے جو مجھ سے بد تر ہو۔اتنے میں ابنِ نَباخ مؤذن آئے اور کہا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔حضرت حسن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑا تو وہ کھڑے ہو کر چلنے لگے۔ابن نباخ آپ کے آگے تھے اور میں پیچھے۔جب آپ دروازے سے باہر نکلے تو آپ نے آواز دی کہ اے لوگو! نماز، نماز۔صلوۃ، صلوۃ کی آواز دیتے تھے۔آپ ہر روز اسی طرح کیا کرتے تھے۔جب آپ نکلتے تو آپ کے ہاتھ میں کوڑا ہو تا تھا اور آپ اُسے دروازوں پہ مار کے لوگوں کو جگایا کرتے تھے۔عین اس وقت وہ دونوں حملہ آور آپ کے سامنے نکل آئے۔عینی شاہدوں میں سے بعض کا کہنا ہے کہ میں نے تلوار کی چمک دیکھی اور ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے علی ! حکم اللہ کے لیے ہے نہ کہ تمہارے لیے۔پھر میں نے دوسری تلوار دیکھی۔پھر دونوں نے مل کر وار کیا۔عبد الرحمن بن ملجم کی تلوار حضرت علی کی پیشانی سے سر کی چوٹی تک پڑی اور دماغ تک پہنچ گئی جبکہ شبیب کی تلوار دروازے کی لکڑی پر جالگی۔میں نے حضرت علی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ آدمی تم سے بھاگنے نہ پائے۔لوگ ہر طرف سے ان پر ٹوٹ پڑے مگر شبیب بیچ کر نکل گیا جبکہ عبدالرحمن بن ملجم گرفتار کر لیا گیا اور اسے حضرت علی کے پاس پہنچا دیا گیا۔حضرت علی نے فرمایا کہ اسے اچھا کھانا کھلاؤ اور نرم بستر دو۔اگر میں زندہ رہا تو میں اس کا خون معاف کرنے یا قصاص لینے کا زیادہ حق دار ہوں گا اور اگر میں فوت ہو گیا تو اسے بھی قتل کر کے میرے ساتھ ملادینا۔میں رب العالمین کے پاس اس سے جھگڑوں گا۔یعنی پھر آپ یہ معاملہ اللہ کے حضور میں پیش کریں گے۔حضرت علی کی وصیت 902 جب حضرت علی کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت کی۔آپ کی وصیت یہ تھی: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔یہ وہ وصیت ہے جو علی بن ابی طالب نے کی ہے۔علی نے یہ وصیت کی ہے کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ یکتا ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمدعلی ای ام اس کے بندے اور رسول ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا تھا تا کہ وہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کر دیں خواہ یہ بات مشرکین کو بُری ہی لگے۔یقینا میری نماز اور میری قربانی اور