اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 455

صحاب بدر جلد 3 455 حضرت علی پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا اور ان کی ایک جماعت دریائے فرات کے گھاٹ پر قابض تھی۔حضرت علی نے یقین دلایا کہ ہم لڑنے نہیں آئے بلکہ امیر معاویہ سے تصفیہ کرنے آئے ہیں تاہم امیر معاویہ تصفیہ پر رضامند نہ ہوئے۔شامی لشکر نے حضرت علی کے لشکر کو دریائے فرات سے پانی لینے سے روک دیا۔اس پر حضرت علیؓ نے اپنی فوج کو حملہ کرنے کا حکم دیا۔اس طرح حضرت علی کی فوج شامی فوج کو پسپا کرنے اور اپنے لیے دریا تک کاراستہ بنانے میں کامیاب ہو گئی۔حضرت علی نے شامیوں کو فرات سے پانی لے کر جانے کی کھلی اجازت بھی دے دی۔شامیوں نے تو حضرت علی کو منع کیا تھا، پانی لینے سے روک دیا تھا لیکن آپ نے جب دریا پہ قبضہ کر لیا تو آپ نے ان کو پانی لینے سے نہیں روکا بلکہ اجازت دی۔امیر معاویہ کا اصرار تھا کہ حضرت علیؓ قاتلین عثمان کو ان کے حوالے کر دیں۔ایک دفعہ جب لڑائی چھڑ جانے کا خطرہ پیدا ہوا تو دونوں طرف کے صلح پسندوں نے روک تھام کروادی۔جنگ کا آغاز صفر 137 ہجری میں شروع ہوا۔جنگ سے قبل جھڑ ہیں ہوتی رہیں لیکن دونوں فریق عام جنگ کے مہلک نتائج سے خائف ہونے کے باعث گریز کرتے رہے۔صلح کے ہر امکان کی گنجائش باقی رکھنے کی غرض سے فریقین اس پر متفق ہو گئے کہ حرمت والے مہینوں میں عارضی صلح کر لی جائے لیکن یہ تدبیر بھی کامیاب نہ ہوئی۔چنانچہ آغاز صفر میں دوبارہ جنگ کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔جب لڑائی کچھ مدت تک بغیر حتمی فیصلہ کے ہوتی رہی تو امیر معاویہ کی ہمت پست ہو گئی۔اس خطر ناک حالت میں حضرت عمرو بن عاص نے انہیں مشورہ دیا کہ قرآن مجید کے نسخے نیزوں کے سروں پر بندھوائیں اور کہیں کہ اس کتاب کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا جس کے نتیجہ میں حضرت علی کے متبعین میں اختلاف پید اہو گیا۔ایک بڑی تعداد نے یہ کہہ دیا کہ اللہ سے فیصلہ چاہنے کی استدعا مسترد نہیں کی جاسکتی۔اس طرح حضرت علی نے ہر اول دستے کو واپس بلا لیا اور لڑائی رک گئی۔حضرت علی کی فوج کی اکثریت نے امیر معاویہ کی تجویز مان لی کہ دونوں فریق ایک ایک حکم کا انتخاب کریں اور یہ دونوں حکم مل کر قرآن مجید کے ارشاد کے مطابق کسی فیصلہ پر پہنچ جائیں۔کتب تاریخ میں اس واقعہ کو تحکیم کہا جاتا ہے۔بہر حال شامیوں نے حضرت عمرو بن عاص کا انتخاب کیا اور حضرت علیؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو نامزد کیا اور اقرار نامہ پر دستخط کے بعد فوجیں منتشر ہو گئیں۔یہ ابن اثیر کی تاریخ کا حوالہ ہے۔896 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس بارے میں اس طرح تحریر فرمایا ہے ، بیان فرمایا ہے کہ اس جنگ میں حضرت معاویہ کے ساتھیوں نے یہ ہوشیاری کی کہ نیزوں پر قرآن اٹھا دیے اور کہا کہ جو کچھ قرآن فیصلہ کرے وہ ہمیں منظور ہے اور اس غرض کے لیے حکم مقرر ہونے چاہئیں۔اس پر وہی مفسد جو حضرت عثمان کے قتل کی سازش میں شامل تھے اور جو آپ کی شہادت کے معا بعد اپنے بچاؤ کے لیے حضرت علی کے ساتھ شامل ہو گئے تھے انہوں نے حضرت علی پر یہ زور دینا شروع کر دیا کہ یہ بالکل درست کہتے ہیں۔آپ فیصلہ کے لیے حکم مقرر کر دیں۔حضرت علیؓ نے بہتیرا انکار کیا مگر انہوں نے اور کچھ ان کمزور طبع لوگوں