اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 452 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 452

اصحاب بدر جلد 3 452 حضرت علی گی کیونکہ اسی وقت تک ہم حضرت عثمان کے قتل کی سزا سے بچ سکتے ہیں جب تک کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں گے۔اگر صلح ہو گئی اور امن ہو گیا تو ہمارا ٹھکانہ کہیں نہیں۔“ کہیں بھی ہمارا ٹھکانہ نہیں ہو گا۔اس لیے جس طرح سے ہو صلح نہ ہونے دو۔اتنے میں حضرت علی بھی پہنچ گئے اور آپ کے پہنچنے کے دوسرے دن آپ کی “ یعنی اس علاقے میں اور آپ کی ”اور حضرت زبیر کی ملاقات ہوئی۔وقت ملاقات حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آپ نے میرے لڑنے کے لیے تو لشکر تیار کیا ہے مگر کیا خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لیے کوئی عذر بھی تیار کیا ہے ؟ آپ لوگ کیوں اپنے ہاتھوں سے اس اسلام کے تباہ کرنے کے درپے ہوئے ہیں جس کی خدمت سخت جانکاہیوں سے کی تھی۔کیا میں آپ لو گوں کا بھائی نہیں ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ پہلے تو ایک دوسرے کا خون حرام سمجھا جاتا تھا لیکن اب حلال ہو گیا۔اگر کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہوتی تو بھی بات تھی۔جب کوئی نئی بات پیدا ہی نہیں ہوئی تو پھر یہ مقابلہ کیوں ہے ؟ اس پر حضرت طلحہ نے کہا، وہ بھی حضرت زبیر کے ساتھ تھے کہ آپ نے حضرت عثمان کے قتل پر لوگوں کو اکسایا ہے۔حضرت علی نے فرمایا کہ میں حضرت عثمان کے قتل میں شریک ہونے والوں پر لعنت کرتا ہوں۔پھر حضرت علیؓ نے حضرت زبیر سے کہا کہ کیا تم کو یاد نہیں کہ رسول کریم صلی علیہ ہم نے فرمایا تھا کہ خدا کی قسم ! تو علی سے جنگ کرے گا اور تو ظالم ہو گا یعنی حضرت زبیر کو فرمایا تھا۔"یہ سن کر حضرت زبیر اپنے لشکر کی طرف واپس لوٹے اور قسم کھائی کہ وہ حضرت علی سے ہر گز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کیا کہ انہوں نے اجتہاد میں غلطی کی۔جب یہ خبر لشکر میں پھیلی تو سب کو اطمینان ہو گیا کہ اب جنگ نہ ہو گی بلکہ صلح ہو جائے گی لیکن مفسدوں کو سخت گھبراہٹ ہونے لگی جنہوں نے فساد پیدا کرنا تھا قدرتی بات ہے انہیں گھبراہٹ ہوئی تھی۔ان کو گھبراہٹ ہونے لگی اور جب رات ہوئی تو انہوں نے صلح کو روکنے کے لیے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علی کے ساتھ تھے انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ و زبیر کے لشکر پر رات کے وقت شب خون مار دیا اور جو ان کے لشکر میں تھے۔“ انہوں نے جو دوسرے لشکر میں تھے ”انہوں نے حضرت علی کے لشکر پر شب خون مار دیا۔“ دونوں طرف جو منافق تھے ، بٹ کر شامل ہوئے تھے ناں، حضرت عائشہ کی طرف بھی اور حضرت علی کی طرف بھی۔دونوں نے ایک دوسرے پر حملہ کر دیا۔خود آپس میں نہیں لڑے ”جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شور پڑ گیا اور ہر فریق نے خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھوکا کیا حالانکہ اصل میں یہ صرف سبائیوں کا ایک منصوبہ تھا۔جب جنگ شروع ہو گئی تو حضرت علی نے آواز دی کہ کوئی شخص حضرت عائشہ کو اطلاع دے۔شاید ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس فتنہ کو دور کر دے۔چنانچہ حضرت عائشہ کا اونٹ آگے کیا گیا لیکن نتیجہ اور بھی خطرناک نکلا۔مفسدوں نے یہ دیکھ کر کہ ہماری تدبیر پھر الٹی پڑنے لگی۔حضرت عائشہ کے اونٹ پر تیر مارنے شروع کیے۔حضرت عائشہ نے زور زور سے پکار ناشروع کیا کہ اے لوگو! جنگ کو ترک کرو اور خدا اور یوم حساب کو یاد کرو لیکن مفسد باز نہ آئے اور برابر آپ کے اونٹ پر تیر مارتے چلے گئے۔چونکہ اہل بصرہ اس لشکر کے ساتھ تھے جو