اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 438 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 438

محاب بدر جلد 3 438 حضرت علی 871 علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب حضرت فاطمہ کی وفات ہوئی تو حضرت علی نے مناسب سمجھا کہ حضرت ابو بکر کے ساتھ اپنی بیعت کی تجدید کریں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف 'سر الخلافہ میں بیان فرماتے ہیں یہ عربی کی کتاب ہے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ اگر ہم یہ فرض کر بھی لیں کہ صدیق اکبر ان لوگوں میں سے تھے ( یہ ان کے بارے میں بیان فرما رہے ہیں جو حضرت ابو بکر صدیق پر الزام لگاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس وقت حضرت علی کو خلیفہ ہونا چاہیے تھا) اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ اگر ہم یہ فرض کر بھی لیں کہ صدیق اکبر ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے دنیا اور اس کی رعنائیوں کو مقدم کیا اور انہیں چاہا اور وہ غاصب تھے تو ایسی صورت میں ہم اس بات پر مجبور ہوں گے کہ پھر یہ بھی اقرار کریں کہ شیر خدا علی بھی منافقوں میں شامل تھے (نعوذ باللہ ) اور جیسا کہ ہم ان کے متعلق خیال کرتے ہیں وہ دنیا کو تیاگ کر اللہ سے لو لگانے والے نہ تھے بلکہ وہ دنیا اور اس کی دل فریبیوں پر گر پڑنے والے اور اس کی رعنائیوں کے فریفتہ تھے اور اسی وجہ سے آپ نے کافر مرتدوں کا ساتھ نہ چھوڑا ( یعنی یہ کافر کہتے ہیں ناں۔حضرت ابو بکر کے بارے میں بہت سخت الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں) بلکہ مداہنت اختیار کرنے والوں کی طرح ان میں شامل رہے اور قریباً تیس سال کی مدت تک تقیہ اختیار کیے رکھا۔پھر جب صدیق اکبر ، علی رضی اللہ عنہ وارضی کی نگاہ میں کا فریا غاصب تھے تو پھر کیوں ان کی بیعت پر راضی ہوئے اور کیوں انہوں نے ظلم، فتنے اور ارتداد کی سر زمین سے دوسرے ممالک کی جانب ہجرت نہ کی ؟ کیا اللہ کی زمین اتنی فراخ نہ تھی کہ وہ اس میں ہجرت کر جاتے جیسا کہ یہ تقویٰ شعاروں کی سنت ہے۔وفاشعار ابراہیم کو دیکھو کہ وہ حق کی شہادت میں کیسے شدید القویٰ تھے ، (بڑے باہمت نکلے) جب انہوں نے دیکھا کہ ان کا باپ گمراہ ہو گیا اور راہ حق سے بھٹک گیا ہے اور یہ دیکھا کہ ان کی قوم بتوں کو پوج رہی ہے اور وہ بزرگ و بر تر رب کے تارک ہیں تو انہوں نے بلا کسی خوف کے اور ان کی پروا کیے بغیر ان سے منہ موڑ لیا۔وہ آگ میں ڈالے گئے اور شریروں کے خوف سے تقیہ اختیار نہ کیا۔یہ ہے نیکو کاروں کی سیرت کہ وہ شمشیر وسناں سے نہیں ڈرتے اور وہ تقیہ کو گناہ کبیرہ اور بے حیائی اور تعدی تصور کرتے ہیں۔اگر (بالفرض) ان سے اس قسم کی ذلیل حرکت ذراسی بھی صادر ہو جائے تو وہ اللہ کی طرف استغفار کرتے ہوئے رجوع کرتے ہیں۔ہمیں تعجب ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ صدیق اور فاروق کافر اور حقوق غصب کرنے والے ہیں، انہوں نے ان کی کیسے بیعت کر لی۔وہ یعنی حضرت علی ان دونوں کی معیت میں ایک لمبی عمر تک ساتھ رہے اور پورے اخلاص اور عقیدے سے ان دونوں کی اتباع کی اور اس میں نہ کبھی انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ ہی کسی کراہت کا اظہار فرمایا، نہ کوئی اور وجہ آڑے آئی اور نہ ہی آپ کے ایمانی تقویٰ نے آپ کو اس سے روکا۔بایں ہمہ کہ آپ ان حضرات کے فساد، کفر اور ارتداد سے آگاہ تھے۔(علاوہ ازیں) آپ کے اور اقوام عرب کے درمیان نہ کوئی بند دروازہ تھا اور نہ ہی کوئی لمبا چوڑا پر دہ اور نہ ہی آپ