اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 428 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 428

حاب بدر جلد 3 428 حضرت علی ایک اور جگہ بھی حضرت مصلح موعودؓ اس کا اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی ا ہم نے حدیبیہ سے واپس آنے کے قریبا پانچ ماہ بعد یہ فیصلہ کیا کہ یہودی خیبر سے جو مدینہ سے صرف چند منزل کے فاصلہ پر تھا اور جہاں سے مدینہ کے خلاف آسانی سے سازش کی جاسکتی تھی نکال دیئے جائیں۔چنانچہ آپ نے سولہ سو صحابہ کے ساتھ اگست 628ء میں خیبر کی طرف کوچ فرمایا۔خیبر ایک قلعہ بند شہر تھا اور اس کے چاروں طرف چٹانوں کے اوپر قلعے بنے ہوئے تھے۔ایسے مضبوط شہر کو اتنے تھوڑے سے سپاہیوں کے ساتھ فتح کر لینا کوئی آسان بات نہ تھی۔ارد گرد کی چھوٹی چھوٹی چوکیاں تو چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے بعد فتح ہو گئیں۔لیکن جب یہودی سمٹ سمٹا کر شہر کے مرکزی قلعہ میں آگئے تو اس کے فتح کرنے کی تمام تدابیر بیکار جانے لگیں۔ایک دن رسول اللہ صلی لی کام کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ اس شہر کی فتح حضرت علی کے ہاتھ پر مقدر ہے۔83966 آپ نے صبح کے وقت یہ اعلان کیا کہ میں اسلام کا سیاہ جھنڈا آج اس کے ہاتھ میں دوں گا جس کو خدا اور اس کا رسول اور مسلمان پیار کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس قلعہ کی فتح اس کے ہاتھ پر مقدر کی ہے۔اس کے بعد دوسری صبح آپ نے حضرت علی کو بلایا اور جھنڈا ان کے سپر د کیا۔جنہوں نے صحابہ کی فوج کو ساتھ لے کر قلعہ پر حملہ کیا۔باوجود اس کے کہ یہودی قلعہ بند تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت علی اور دوسرے صحابہ کو اس دن ایسی قوت بخشی کہ شام سے پہلے پہلے قلعہ فتح ہو گیا۔" پھر ایک اور جگہ حضرت علی کا ذکر کرتے ہوئے اسی واقعہ کے تعلق میں حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح فرمایا ہے کہ خیبر کی فتح کا سوال پیدا ہوا تو رسول کریم صلی ا ولم نے حضرت علی کو بلایا اور لشکر اسلامی کا علم آپ کے سپرد کرنا چاہا مگر حضرت علی کی آنکھیں دُکھ رہی تھیں“ یہاں آنکھوں کے دکھنے کا بھی ذکر آگیا ” اور شدت تکلیف کی وجہ سے وہ سوجی ہوئی تھیں۔رسول کریم صلی ال کلم نے حضرت علی ہو اس حالت میں دیکھا تو آپ نے علی سے فرمایا ادھر آؤ۔وہ سامنے آئے تو آپ نے اپنا لعاب دہن حضرت علی کی آنکھوں پر لگایا اور ان کی آنکھیں اسی وقت اچھی ہو گئیں۔پھر ایک اور جگہ آنحضرت کے دست شفا کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے نظارے نظر آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی طور پر شفاء بعض مریضوں کو ملتی ہے بغیر اس کے کہ طبعی ذرائع استعمال ہوں یا ان موقعوں پر شفاء ملتی ہے کہ جب طبعی ذرائع مفید نہیں ہوا کرتے۔چنانچہ رسول کریم صلی علیکم کی زندگی کے واقعات میں سے اس قسم کی شفاء کی ایک مثال جنگ خیبر کے وقت ملتی ہے۔خیبر کی جنگ کے دوران میں ایک دن آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ خیبر کی فتح اس شخص کے لئے مقدر ہے جس کے ہاتھ میں میں جھنڈا دوں گا۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب وہ وقت آیا تو میں نے گردن اونچی کر کر کے دیکھنا شروع کیا کہ شاید مجھے ہی رسول کریم صلی یکم جھنڈا دیں۔مگر آپ نے انہیں اس کام کے لئے مقرر نہ فرمایا۔اتنے میں حضرت علی آئے اور ان کی الله