اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 391

اصحاب بدر جلد 3 391 حضرت عثمان بن عفان قرآنی زبان کے سمجھنے میں لوگوں کو کوئی دقت نہ رہی اور جب یہ حالت پیدا ہو گئی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اس عارضی اجازت کو جو محض وقتی حالات کے ماتحت دی گئی تھی منسوخ کر دیا اور یہی اللہ تعالیٰ کا منشا تھا مگر شیعہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا قصور اگر قرار دیتے ہیں تو یہی کہ انہوں نے مختلف قراء توں کو مٹاکر ایک قراءت جاری کر دی۔حالانکہ اگر وہ غور کرتے تو آسانی سے سمجھ سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے مختلف قراتوں میں قرآن کریم پڑھنے کی اجازت اسلام کے دوسرے دور میں دی ہے، ابتدائی دور میں نہیں دی۔جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم کا نزول گو حجازی زبان میں ہوا ہے ہے مگر قراء توں میں فرق دوسرے قبائل کے اسلام لانے پر ہوا۔چونکہ بعض دفعہ ایک قبیلہ اپنی زبان کے لحاظ سے دوسرے قبیلہ سے کچھ فرق رکھتا تھا اور یا تو وہ تلفظ صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتا تھا یا ان الفاظ کا معنوں کے لحاظ سے فرق ہو جاتا تھا۔اس لئے رسول کریم صلی علی یکم نے اللہ تعالیٰ کے منشا کے ماتحت بعض اختلافی الفاظ کے لہجہ کے بدلنے یا اس کی جگہ دوسر ا لفظ رکھنے کی اجازت دے دی۔مگر اس کا آیات کے معانی یا ان کے مفہوم پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا بلکہ اگر یہ اجازت نہ دی جاتی تو فرق پڑتا۔چنانچہ اس کا ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ رسول کریم صلی علیم نے ایک سورت عبد اللہ بن مسعود کو اور طرح پڑھائی اور حضرت عمرؓ کو اور طرح پڑھائی کیونکہ حضرت عمر خالص شہری تھے اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ گڈریا تھے اور اس وجہ سے بدوی لوگوں سے ان کا تعلق زیادہ تھا۔پس دونوں زبانوں میں بہت بڑا فرق تھا۔ایک دن عبد اللہ بن مسعودؓ قرآن کریم کی وہی سورت پڑھ رہے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پاس سے گزرے اور انہوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ کو کسی قدر فرق سے اس سورہ کی تلاوت کرتے سنا۔انہیں بڑا تعجب آیا کہ یہ کیا بات ہے کہ الفاظ کچھ اور ہیں اور یہ کچھ اور طرح پڑھ رہے ہیں۔چنانچہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے گلے میں پڑکا ڈالا اور کہا چلور سول کریم صلی یہ نیم کے پاس میں ابھی تمہارا معاملہ پیش کرتا ہوں۔تم سورت کے بعض الفاظ اور طرح پڑھ رہے ہو اور اصل سورت اور طرح ہے۔غرض وہ انہیں رسول کریم صلی علیم کے پاس لائے اور عرض کیا۔یارسول اللہ ! آپ نے یہ سورت مجھے اور طرح پڑھائی تھی اور عبد اللہ بن مسعود اور طرح پڑھ رہے تھے۔رسول کریم صلی الی یکم نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے فرمایا تم یہ سورت کس طرح پڑھ رہے تھے ؟ وہ ڈرے اور کانپنے لگ گئے کہ کہیں مجھ سے غلطی نہ ہو گئی ہو مگر رسول کریم صلی الی یکم نے فرمایا ڈرو نہیں، پڑھو۔انہوں نے پڑھ کر سنائی تو رسول کریم صلی ا ہم نے فرمایا: بالکل ٹھیک ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ یارسول اللہ ! آپ نے تو مجھے اور طرح پڑھائی تھی۔آپ نے فرمایا: وہ بھی ٹھیک ہے۔پھر آپ نے فرمایا: قرآن کریم سات قراء توں میں نازل کیا گیا ہے تم ان معمولی معمولی باتوں پر آپس میں لڑا نہ کرو۔اس فرق کی وجہ دراصل یہی تھی کہ رسول کریم صلی ا ہم نے سمجھا عبد اللہ بن مسعود گڈریا ہیں اور ان کا اور لہجہ ہے اس لئے ان کے لہجہ کے مطابق جو قراءت تھی وہ انہیں پڑھائی۔حضرت عمر کے متعلق آپ صلی ہم نے سوچا کہ یہ خالص شہری ہیں اس لئے انہیں اصل مکی