اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 19

اصحاب بدر جلد 3 19 حضرت عمر بن خطاب دے۔آپ نے یہ دعا تین دفعہ فرمائی۔36 جیسا کہ ہم حضرت عمر کے اسلام لانے سے پہلے کی زندگی میں دیکھ آئے ہیں کہ حضرت عمرؓ اسلام لانے سے پہلے مسلمانوں کے سخت خلاف تھے لیکن جب آپ اسلام لائے تو آپ کا اسلام قبول کرنا مسلمانوں کے لیے فتح اور تنگی سے نجات کا ذریعہ ثابت ہوا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اس وقت تک کھل کر اللہ کی عبادت نہیں کی جب تک کہ حضرت عمر ایمان نہ لے آئے۔37 قبول اسلام کا عام اعلان اور مخالفت عبد الرحمن بن حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ جس رات میں نے اسلام اختیار کیا تو میں نے سوچا کہ اہل مکہ میں سے رسول کریم صلی علیہ کم کی عداوت میں سب سے زیادہ کون بڑھا ہوا ہے کہ میں اس کے پاس جاؤں اور اس کو بتاؤں کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا وہ ابو جہل ہی ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے کہا کہ جب صبح ہوئی تو میں اس کے پاس گیا اور اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔آپ کہتے ہیں کہ ابو جہل میرے پاس آیا اور کہا: اے میرے بھانجے خوش آمدید۔حضرت عمرؓ کو اس نے کہا کہ میرے بھانجے خوش آمدید۔تم کس لیے آئے ہو؟ حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں تمہیں بتانے آیا ہوں کہ میں اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللی کم پر ایمان لے آیا ہوں اور میں نے اس کی تصدیق کی ہے جو وہ لایا ہے۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ اس نے دروازہ مجھ پر بند کر دیا اور کہا کہ اللہ تجھ کو اور اس چیز کو جو تولا یا ہے برباد کرے۔38 یہ ابو جہل کے الفاظ تھے۔حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب میرے والد حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ قریش میں سب سے زیادہ باتیں پھیلانے کی عادت کس شخص کو ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ جمیل بن مَعْمَر مُجمعی۔حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صبح صبح اس کے پاس چلے گئے اور میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا اور میں دیکھ رہا تھا کہ آپ کیا کرتے ہیں اور میں کم عمر تو تھا لیکن جو کچھ دیکھتا تھا اس کو سمجھتا تھا۔یہ ابن عمر کہہ رہے ہیں۔یہاں تک کہ جب آپ اس کے پاس پہنچے تو اس سے کہا کہ اے جمیل ! کیا تجھے معلوم ہے کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور دین محمد صلی الی یکم میں داخل ہو چکا ہوں۔حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! آپ نے اس بات کو دہرایا نہیں تھا یعنی دوسری دفعہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی کہ وہ اپنی چادر کو گھسیٹتے ہوئے نکل پڑا اور حضرت عمرؓ بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے۔حضرت ابنِ عمر " کہتے ہیں کہ میں بھی اپنے والد کے پیچھے ہو لیا یہاں تک کہ جب وہ یعنی وہ شخص جمیل خانہ کعبہ کے دروازے پر کھڑا ہو گیا اور بلند آواز سے پھر چیخا کہ اے قریش کے گروہ! اس نے کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کے یہ اعلان کیا کہ اے قریش کے گروہ! اور وہ لوگ کعبہ کے گرد اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس کی طرف متوجہ ہوئے۔اس نے کہا کہ سن لو عمر بن خطاب صابی ہو گیا ا