اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 14

حاب بدر جلد 3 14 حضرت عمر بن خطاب اندر نرمی کے جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔اس نے کہا جاؤ تمہارے جیسے انسان کے ہاتھ میں میں وہ پاک چیز دینے کیلئے تیار نہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا پھر میں کیا کروں ؟ بہن نے کہا وہ سامنے پانی ہے نہا کر آن تب وہ چیز تمہارے ہاتھ میں دی جاسکتی ہے۔حضرت عمر نہائے اور واپس آئے۔بہن نے قرآن کریم کے اوراق جو وہ سن رہے تھے آپ کے ہاتھ میں دیئے چونکہ حضرت عمرؓ کے اندر ایک تغیر پیدا ہو چکا تھا اس لئے قرآنی آیات پڑھتے ہی ان کے اندر رقت پیدا ہوئی اور جب وہ آیات ختم کر چکے تو بے اختیار انہوں نے کہا کہ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ- یہ الفاظ سن کر وہ صحابی بھی باہر نکل آئے جو حضرت عمرؓ سے ڈر کر چھپ گئے تھے۔پھر حضرت عمرؓ نے دریافت کیا کہ رسول کریم صلی ا ہم آج کل کہاں مقیم ہیں ؟ رسول الله صل العلم ان دنوں مخالفت کی وجہ سے گھر بدلتے رہتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ آج کل آپ دارِ ارقم میں تشریف رکھتے ہیں۔حضرت عمرؓ فوراً اسی حالت میں جب کہ ننگی تلوار انہوں نے لڑکائی ہوئی تھی اس گھر کی طرف چل پڑے۔بہن کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ شاید وہ بُری نیت سے نہ جارہے ہوں۔انہوں نے آگے بڑھ کر کہا خدا کی قسم ! میں تمہیں اس وقت تک نہیں جانے دوں گی جب تک تم مجھے اطمینان نہ دلا دو کہ تم کوئی شرارت نہیں کرو گے۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ میں پکا وعدہ کرتا ہوں کہ میں کوئی فساد نہیں کرونگا۔حضرت عمر وہاں پہنچے۔“ یعنی اس جگہ جہاں رسول پاک صلی اللی کم تھے اور دستک دی۔رسول کریم صلی الیکم اور صحابہ اندر بیٹھے ہوئے تھے دینی درس ہو رہا تھا۔کسی صحابی نے پوچھا کون؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا عمر ! صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! دروازہ نہیں کھولنا چاہئے۔ایسا نہ ہو کہ کوئی فساد کرے۔حضرت حمزہ نئے نئے ایمان لائے ہوئے تھے وہ سپاہیانہ طرز کے آدمی تھے۔انہوں نے کہا دروازہ کھول دو۔میں دیکھوں گاوہ کیا کرتا ہے۔چنانچہ ایک شخص نے دروازہ کھول دیا۔حضرت عمرؓ آگے بڑھے تو رسول اللہ صلی ا ہم نے فرمایا۔عمر! تم کب تک میری مخالفت میں بڑھتے چلے جاؤ گے ؟ حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ ! میں مخالفت کیلئے نہیں آیا میں تو آپ کا غلام بنے کیلئے آیا ہوں۔وہ عمر جو ایک گھنٹہ پہلے اسلام کے شدید دشمن تھے اور رسول کریم صلی ایم کو مارنے کیلئے گھر سے نکلے تھے ایک آن میں اعلیٰ درجہ کے مومن بن گئے۔حضرت عمرمکہ کے رئیسوں میں سے نہیں تھے لیکن بہادری کی وجہ سے نوجوانوں پر آپ کا اچھا اثر تھا۔جب آپ مسلمان ہوئے تو صحابہ نے جوش میں آکر نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔اس کے بعد نماز کا وقت آیا اور رسول کریم صل الیم نے نماز پڑھنی چاہی تو وہی عمر جو دو گھنٹے قبل گھر سے اس لئے نکلا تھا کہ رسول کریم صلی یکم کو مارے۔اس نے دوبارہ تلوار نکال لی اور کہا۔یارسول اللہ ! خدا تعالیٰ کار سول اور اس کے ماننے والے تو چھپ کر نمازیں پڑھیں اور مشرکین مکہ باہر دندناتے پھریں یہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟ میں دیکھوں گا کہ ہمیں خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے سے کون روکتا ہے۔رسول کریم صلی علیم نے فرمایا یہ جذبہ تو بہت اچھا ہے لیکن ابھی حالات ایسے ہیں کہ ہمارا باہر نکلنا مناسب نہیں۔2866 الله سة