اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 308
308 اصحاب بدر جلد 3 حضرت عثمان بن عفان بھی ہجرت حبشہ ثانیہ کا جو پس منظر اور تفصیلات کتب سیرت و حدیث میں بیان ہوئی ہیں، محتاط سیرت نگار اس کو من و عن اس طرح تسلیم نہیں کرتے کیونکہ در ایتا ایسا ممکن نہیں ہے۔چنانچہ ہجرت حبشہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو اپنی تحقیق کی ہے گو اس میں سے کچھ حصہ میں پہلے گذشتہ بعض صحابہ کے ذکر میں کر چکا ہوں لیکن بہر حال یہاں بھی ذکر ضروری ہے۔مرزا بشیر احمد صاحب کی تحقیق یہ ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ”جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی اور قریش اپنی ایذاء رسانی میں ترقی کرتے گئے تو آنحضرت صلی ال ولم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور فرمایا کہ حبشہ کا بادشاہ عادل اور انصاف پسند ہے۔اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہو تا۔حبشہ کا ملک جو انگریزی میں ایتھوپیا یا ابی سینیا کہلاتا ہے براعظم افریقہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور جائے وقوع کے لحاظ سے جنوبی عرب کے بالکل مقابل پر ہے اور درمیان میں بحیرہ احمر کے سوا کوئی اور ملک حائل نہیں ہوتا۔اس زمانہ میں حبشہ میں ایک مضبوط عیسائی حکومت قائم تھی اور وہاں کا بادشاہ نجاشی کہلا تا تھا بلکہ اب تک بھی وہاں کا حکمران اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔“ یعنی جب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ لکھا۔” حبشہ کے ساتھ عرب کے تجارتی تعلقات تھے اور ان ایام میں۔۔۔۔حبشہ کا دارالسلطنت اکسوم (Axsum) تھا جو موجودہ شہر عدوا (Adowa) کے قریب واقع ہے اور اب تک ایک مقدس شہر کی صورت میں آباد چلا آتا ہے۔اکسوم اُن دنوں میں ایک بڑی طاقتور حکومت کا مرکز تھا اور اس وقت کے نجاشی کا ذاتی نام اصحمہ تھا۔جو ایک عادل، بیدار مغز اور مضبوط بادشاہ تھا۔بہر حال جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی تو آنحضرت صلی علیہ ہم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ جن جن سے ممکن ہو حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔چنانچہ آنحضرت صلی علیم کے فرمانے پر ماہ رجب 15 نبوی میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان میں سے زیادہ معروف کے نام یہ ہیں: حضرت عثمان بن عفان اور ان کی زوجہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، عبد الرحمن بن عوف، زبیر ابن العوام، ابو حذیفہ بن عُتْبَه، عثمان بن مَطْعُونَ ، مُصْعَب بن عمير ، ابوسلمه بن عبد الاسد اور ان کی زوجہ اقر سَلَّمَه “ مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ ان ابتدائی مہاجرین میں زیادہ تر تعداد ان لوگوں کی تھی جو قریش کے طاقتور قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور کمزور لوگ کم نظر آتے ہیں جس سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے۔اول یہ کہ طاقتور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی قریش کے مظالم سے محفوظ نہ تھے۔دوسرے یہ کہ کمزور لوگ مثلاً غلام و غیرہ اس وقت ایسی کمزوری اور بے بسی کی حالت میں تھے کہ ہجرت کی بھی طاقت نہ رکھتے تھے۔جب یہ مہاجرین جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے شعیبہ پہنچے جو اس زمانہ میں عرب کی ایک بندر گاہ تھی تو اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ان کو ایک تجارتی جہاز مل گیا جو حبشہ کی طرف روانہ ہونے کو بالکل تیار تھا۔چنانچہ یہ سب امن سے اس میں سوار ہو گئے اور جہاز روانہ ہو گیا۔قریش مکہ کو ان کی