اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 282
حاب بدر جلد 3 282 حضرت عمر بن خطاب ایک روایت میں ہے کہ سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بازار سے گزر رہا تھا کہ حضرت عمرؓ بھی اپنے کسی کام سے گزر رہے تھے۔آپ کے ہاتھ میں کوڑا تھا۔حضرت عمر نے کہا اے سلمہ ! اس طرح رستہ سے ہٹ کر چلا کرو۔پھر مجھے ہلکا سا کوڑا مارا لیکن کوڑا میرے کپڑے کے کنارے پر لگا۔پس میں رستے سے ہٹ گیا اور آپ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ اس بات کو سال گزر گیا۔پھر حضرت عمرؓ سے میری بازار میں ملاقات ہوئی۔آپؐ نے فرمایا اے سکمہ ! کیا اس سال حج کو جانے کا ارادہ ہے۔میں نے کہا ہاں اے امیر المومنین۔پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھر لے گئے اور ایک تھیلے میں سے چھ سو درہم مجھے دیے اور فرمانے لگے اے سلمہ ! اس کو اپنی ضروریات میں استعمال کر لو اور یہ اس کا بدلہ ہے جو ایک سال پہلے میں نے تمہیں کوڑا مارا تھا۔سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! امیر المومنین ! میں یہ بات بالکل بھول چکا تھا اور آج آپ نے یاد کروائی ہے۔132 533" حضرت عمر یہ بھی دیکھا کرتے تھے کہ بازار کی قیمتیں ایسی ہوں جن سے کسی بھی فریق کے شہری حقوق متاثر نہ ہوں۔چنانچہ اسی بات کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے بیان کیا کہ ”شہری حقوق میں یہ بھی داخل ہے کہ لین دین کے معاملات میں خرابی نہ ہو۔ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اس حق کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔چنانچہ اسلام نے بھاؤ کو بڑھانے اور مہنگا سودا کرنے سے روکا ہے۔اسی طرح دوسروں کو نقصان پہنچانے اور ان کو تجارت میں فیل کرنے کے لئے بھاؤ کو گراد پینے سے بھی منع فرمایا ہے۔جس طرح آجکل کی مارکیٹ میں یہ چلتا ہے۔”ایک دفعہ مدینہ میں ایک شخص ایسے ریٹ پر انگور بیچ رہا تھا جس ریٹ پر دوسرے دکاندار نہیں بچ سکتے۔حضرت عمرؓ پاس سے گزرے تو انہوں نے اس شخص کو ڈانٹا کیونکہ اس طرح باقی دکانداروں کو نقصان پہنچتا تھا۔غرض اسلام نے سودا مہنگا کرنے سے بھی روک دیا اور بھاؤ کو گرادینے سے بھی روک دیا تا کہ نہ دکانداروں کو نقصان ہو اور نہ پبلک کو نقصان ہو۔334 عامر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور کہا کہ میری ایک بیٹی تھی جس کو جاہلیت میں زندہ در گور کر دیا گیا لیکن میں نے اسے مرنے سے پہلے نکال لیا۔جب وہ اسلام لے آئی تو اس پر اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد لگ گئی۔غلط کام ہوا اس کی وجہ سے حد لگ گئی تو اس نے ایک چھری کی تا کہ اس سے اپنے آپ کو قتل کر دے۔میں نے اسے پکڑ لیا جبکہ اس نے اپنی بعض رگوں کو کاٹ لیا تھا۔پھر میں نے اس کا علاج کیا یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو گئی۔پھر اس نے اس کے بعد توبہ کر لی اور اچھی توبہ کی۔اے امیر المومنین! اب مجھے اس کے لیے نکاح کے پیغامات آرہے ہیں۔لڑکی کے رشتے آرہے ہیں۔کیا میں اس کے پہلے معاملے کے بارے میں بتایا کروں کہ کیا زندگی تھی، اس کی پہلی زندگی کیا تھی، اس کے ساتھ کیا کچھ ہو تارہا اور کیا اس نے اپنے ساتھ کیا ؟ حضرت عمرؓ نے اس شخص سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے عیب پر پردہ ڈالا ہے اور تو اس کو ظاہر کرے گا ! اللہ کی قسم ! اگر تو نے اس کے معاملے کے