اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 281 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 281

اصحاب بدر جلد 3 281 حضرت عمر بن خطاب سے فرمایا کہ تو اپنی مظلومیت کے حق کو اس کے ہاتھ کتنے میں بچتی ہے کہ میں اس کو جہنم سے بچانا چاہتا ہوں۔یعنی یہ کہا کہ حضرت عمر کو جہنم سے بچانا چاہتا ہوں۔تو بتا کہ اپنی مظلومیت کے حق کو کتنے میں بیچتی ہو۔اس عورت نے کہا کہ ہم سے مذاق نہ کر۔خدا تجھ پر رحمت کرے۔تو حضرت عمر نے اس سے فرمایا یہ مذاق نہیں ہے۔حضرت عمرؓ اس سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ اس کے حق مظلومیت کو چھپیں دینار میں خرید لیا۔ابھی یہ بات ہو رہی تھی کہ حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود آپہنچے اور ان دونوں نے کہا: السّلامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ۔اس پر عورت نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور کہنے لگی کہ اللہ بھلا کرے۔میں نے امیر المومنین کو ان کے سامنے برا بھلا کہہ دیا۔تو امیر المومنین نے اس سے فرمایا: تجھ پر کوئی جرم نہیں۔خدا تجھ پر رحم کرے۔پھر حضرت عمرؓ نے ایک چھڑے کا ٹکٹر اما نگا کہ اس پر لکھیں مگر نہ ملا۔پھر اپنی چادر میں سے جس کو اوڑھا ہوا تھا ایک ٹکڑا کاٹا اور لکھا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرّحِیمِ یہ اس کی دستاویز ہے جو عمر نے فلاں عورت سے آج کے دن تک اس کا حق مظلومیت پچیس دینار میں خریدا ہے جب سے وہ والی بنا ہے۔اگر وہ اب اللہ کے سامنے محشر میں کھڑی ہو کر دعویٰ کرے تو عمر اس سے بری ہے۔علی بن ابی طالب اور عبد اللہ بن مسعود اس پر گواہ ہیں۔پھر وہ تحریر حضرت علی کو دے دی اور فرمایا کہ اگر میں تم سے پہلے دنیا سے گزر جاؤں تو اس کو میرے کفن میں رکھ دینا۔اولاد کا رشتہ دیکھنے کے لیے لوگ کیا معیار رکھتے ہیں۔آج کل بھی ہم دیکھتے ہیں بڑے بڑے 530 اونچے معیار ہوتے ہیں۔حضرت عمر کا کیا معیار تھا؟ اس بارے میں ایک روایت ہے ، حضرت اسلم سے مروی ہے جو حضرت عمرؓ کے آزاد کر دہ تھے کہ بعض راتوں میں سے ایک رات میں میں امیر المومنین کے ساتھ مدینہ کی اطراف میں پھر رہا تھا۔آپ نے ایک گھڑی کے لیے یعنی کچھ وقت کے لیے استراحت کی غرض سے ایک دیوار کی جانب سہارا لیا۔گھر کی دیوار تھی اس کے سہارے بیٹھ گئے تو آپ نے سنا کہ گھر کے اندر ایک بڑھیا اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھی کہ اٹھ اور دودھ میں پانی ملا دے۔لڑکی نے کہا آپ نہیں جانتیں کہ امیر المومنین کے منادی نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ دودھ میں پانی نہ ملایا جائے۔ماں نے کہا: نہ اس وقت امیر المومنین موجود ہے اور نہ اس کا منادی۔لڑکی نے کہا کہ خدا کی قسم ! یہ بات تو ہمارے لیے مناسب نہیں ہے کہ سامنے تو ہم ان کی اطاعت کریں اور خلوت میں نافرمانی کرنے لگیں۔حضرت عمر یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنے ساتھی سے فرمایا کہ اے اسلم! اس مکان پر نشان لگا دو۔اس کے دروازے پر ایک نشان لگا دو۔دوسرے دن آپ نے کسی کو بھیجا اور اس لڑکی کا رشتہ اپنے بیٹے عاصم سے کر دیا۔اس کی اسی سچائی پر ، نیکی کو دیکھتے ہوئے اپنے بیٹے کا رشتہ اس لڑکی سے کر دیا۔اس سے عاصم کی ایک لڑکی پیدا ہوئی حضرت عمر بن عبد العزیز اسی لڑکی کی اولاد میں سے تھے۔531