اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 274 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 274

اصحاب بدر جلد 3 274 حضرت عمر بن خطاب لئے ستو وغیرہ یا دانے وغیرہ بھون کر تیار کرو۔اسی قسم کی غذائیں ان دنوں میں ہوتی تھیں۔چنانچہ انہوں نے مٹی وغیرہ پھٹک کے دانوں سے نکالنی شروع کی۔حضرت ابو بکر گھر میں بیٹی کے پاس آئے اور انہوں نے یہ تیاری دیکھی تو پوچھا عائشہ ! یہ کیا ہو رہا ہے ؟ کیا رسول اللہ کے کسی سفر کی تیاری ہے ؟ کہنے لگیں سفر کی تیاری ہی معلوم ہوتی ہے۔آپ نے سفر کی تیاری کے لئے کہا ہے۔کہنے لگے کوئی لڑائی کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا کچھ پتہ نہیں۔رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا ہے کہ میر اسامان سفر تیار کرو اور ہم ایسا کر رہے ہیں۔دو تین دن کے بعد آپ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو بلایا اور کہا دیکھو! تمہیں پتہ ہے خُزاعہ کے آدمی اس طرح آئے تھے اور پھر بتایا کہ یہ واقعہ ہوا ہے اور مجھے خدا نے اس واقعہ کی پہلے سے خبر دے دی تھی کہ انہوں نے غداری کی ہے۔“ یعنی مکہ والوں نے غداری کی ہے ” اور ہم نے ان سے معاہدہ کیا ہوا ہے۔اب یہ ایمان کے خلاف ہے کہ ہم ڈر جائیں اور مکہ والوں کی بہادری اور طاقت دیکھ کر ان کے مقابلہ کے لئے تیار نہ ہو جائیں تو ہم نے وہاں جانا ہے۔تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت ابو بکر نے کہا یارسول اللہ ! آپ نے تو ان سے معاہدہ کیا ہوا ہے اور پھر وہ آپ کی اپنی قوم ہے۔مطلب یہ تھا کہ آپ اپنی قوم کو ماریں گے ؟ آنحضرت صلی علیم نے فرمایا ہم اپنی قوم کو نہیں ماریں گے۔معاہدہ شکنوں کو ماریں گے۔پھر حضرت عمرؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا بسم اللہ ! میں تو روز دعائیں کرتا تھا کہ یہ دن نصیب ہو اور ہم رسول اللہ کی حفاظت میں کفار سے لڑیں۔رسول کریم صلی علیکم نے فرمایا: ابو بکر بڑا نرم طبیعت کا ہے مگر قول صادق عمر کی زبان سے زیادہ جاری ہو تا ہے۔فرمایا کرو تیاری۔پھر آپ نے ارد گرد کے قبائل کو اعلان بھجوایا کہ ہر شخص جو اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں مدینہ میں جمع ہو جائے۔چنانچہ لشکر جمع ہونے شروع ہوئے اور کئی ہزار آدمیوں کا لشکر تیار ہو گیا اور آپ لڑنے کے لئے تشریف لے گئے۔5020 503 حضرت ابو بکر اور عمرہ کی فضیلت کے بارے میں ایک روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی علیم نے فرمایا کہ علیین والوں میں سے کوئی شخص جنت والوں پر جھانکے گا تو اس کے چہرہ کی وجہ سے جنت جگمگا اٹھے گی۔گویا ایک چمکتا ہو استارہ ہے اور حضرت ابو بکر اور عمر بھی ان میں سے ہیں اور وہ دونوں کیا ہی خوب ہیں۔3 ابو عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے حضرت عمرو بن عاص کو ذات السلاسل کی فوج پر افسر مقرر کر کے بھیجا۔اس زمانے کا جو سفر کا طریقہ ہو تا تھا اس کے مطابق یہ مدینہ سے کوئی ایک دن کے سفر پہ واقع جگہ ہے۔اور وادی القریٰ سے آگے قبیلہ جذام کے علاقے میں ایک کنویں کا نام ہے۔حضرت عمر و کہتے ہیں کہ جب میں آپ کے پاس واپس آیا تو میں نے آپ سے پوچھا: لوگوں میں سے آپ کو کون زیادہ پیارا ہے ؟ آپ نے فرما یا عائشہ۔میں نے کہا مر دوں میں سے کون زیادہ پیارا ہے، آپ نے فرمایا اس عائشہ کا باپ۔میں نے کہا پھر