اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 273
اصحاب بدر جلد 3 273 حضرت عمر بن خطاب 496 میں آئی اور اپنی ٹھوڑی رسول اللہ صلی ا یکم کے کندھے پر رکھ کر دیکھنے لگی۔میری ٹھوڑی آپ کے سر اور کندھے کے درمیان تھی۔پھر آپ مجھ سے فرمانے لگے کیا تم سیر نہیں ہوئی؟ میں نے کہا ابھی نہیں تا کہ میں دیکھوں کہ آپ کو میری کتنی قدر ہے۔جب حضرت عمر آئے تو لوگ اس عورت کے پاس سے بھاگ گئے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللی یم نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ جن وانس کے شیطان عمر سے بھاگتے ہیں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں پھر میں وہاں سے لوٹ آئی۔حضرت بریدہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للی کم کسی غزوہ کے لیے نکلے۔جب آپ واپس تشریف لائے تو ایک سیاہ فام لونڈی نے آکر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو سلامتی سے واپس لے آیا تو میں آپ کے سامنے دف بجا کر گانا گاؤں گی۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ اگر تم نے نذر مانی ہے تو بجالو ورنہ نہیں۔چنانچہ وہ دف بجانے لگی اور حضرت ابو بکر تشریف لائے۔وہ دف بجاتی رہی۔پھر حضرت علی آئے تو وہ دف بجاتی رہی۔پھر حضرت عثمان آئے تو پھر بھی دف بجاتی رہی۔پھر حضرت عمرؓ تشریف لائے تو اس نے دف اپنے نیچے رکھ لی اور اس کے اوپر بیٹھ گئی۔49866 رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ اے عمر ! شیطان بھی تجھ سے ڈرتا ہے۔میں بیٹھا تھا تو یہ دف بجاتی رہی۔پھر ابو بکر آئے یہ دف بجاتی رہی۔پھر علی آئے تو بھی بجاتی رہی۔پھر عثمان آئے تو یہ بجاتی رہی مگر اے عمر ! جب تم آئے ہو تو اس نے دف رکھ دی ہے۔197 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”نبی صلی علیم نے حضرت عمر کو کہا تھا کہ اگر شیطان تجھ کو کسی راہ میں پاوے تو دوسری راہ اختیار کرے اور تجھ سے ڈرے اور اس دلیل سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان حضرت عمرؓ سے ایک نامر و ذلیل کی طرح بھاگتا ہے۔98 حضرت عمر کی زبان اور دل پر حق اور سکینت کے بارے میں آنحضرت صلی علیم نے ایک مرتبہ فرمایا۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یم نے فرمایا کہ اللہ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر جاری کر دیا۔499 حضرت ابن عباس اپنے بھائی فضل سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی ا ہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عمر بن خطاب میرے ساتھ ہوتا ہے جہاں میں پسند کرتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہو تا ہوں جہاں وہ پسند کرتا ہے اور میرے بعد عمر بن خطاب جہاں ہو گا حق اس کے ساتھ رہے گا۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ہم آپس میں گفتگو کیا کرتے تھے کہ سکینت حضرت عمر کی زبان اور دل پر جاری ہوتی ہے۔501 حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ ہم نے اپنی ایک بیوی سے کہا کہ میرا سامانِ سفر باندھنا شروع کرو۔انہوں نے رخت سفر باندھنا شروع کیا اور حضرت عائشہ سے کہا میرے 500