اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 256
حاب بدر جلد 3 256 حضرت عمر بن خطاب 449 روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ ایک سفر میں لوگوں کے زادِ راہ کم ہو گئے اور ان کے پاس کچھ نہ رہا اور وہ نبی صلی علیکم کے پاس اپنے اونٹ ذبح کرنے کے لیے اجازت مانگنے آئے۔آپ نے انہیں اجازت دے دی۔پھر حضرت عمرؓ ان لوگوں سے ملے اور انہوں نے حضرت عمر کو بتایا تو حضرت عمرؓ نے کہا اپنے اونٹوں کے بعد تم کیسے گزارہ کرو گے ؟ یہ کہہ کر حضرت عمر نبی صلی نیم کے پاس گئے اور کہا یار سول اللہ ! وہ اپنے اونٹوں کے بعد کیسے گزارہ کریں گے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا : لوگوں میں منادی کرو کہ سب اپنا بچا ہو ا زادِ راہ لے آئیں۔پھر آپ صلی علی کرم نے دعا کی اور اس زادِ راہ کو برکت دی۔پھر ان کے برتن منگوائے اور لوگوں نے بھر بھر کر لینا شروع کیا یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔19 اذان کی جو ابتدا ہوئی ہے اس بارے میں بھی حضرت عمرؓ نے خواب دیکھی تھی۔مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی وحی صحابہ پر نازل ہوئی۔رسول کریم صلی الیکم کے زمانے میں عبد اللہ بن زید ایک صحابی تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو وحی کے ذریعہ سے اذان سکھائی تھی اور رسول کریم صلی علی کریم نے انہی کی وحی پر انحصار کرتے ہوئے مسلمانوں میں اذان کا رواج ڈالا تھا۔بعد میں قرآنی وحی نے بھی اس کی تصدیق کر دی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے یہی اذان سکھائی تھی مگر ہیں دن تک میں خاموش رہا اس خیال سے کہ ایک اور شخص رسول کریم صلی اینیم سے یہ بات بیان کر چکا ہے۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک فرشتہ نے مجھے آکر اذان سکھائی اور میں حضرت اس وقت پوری طرح سویا ہوا نہیں تھا“ یہ حضرت عمرؓ نے فرمایا۔کچھ کچھ جاگ رہا تھا۔4500 سنن ترمذی کی روایت ہے جو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں لیکن یہاں بھی بیان کر دیتا ہوں۔اس کے آخر میں جو الفاظ ہیں وہ بتاتے ہیں کہ آنحضرت صلی علم کے نزدیک حضرت عمرؓ کے خواب کی کتنی اہمیت تھی۔محمد بن عبد اللہ بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم صبح کے وقت رسول اللہ صلی علیکم کے پاس آئے اور میں نے آپ کو خواب سنائی۔آپ صلی علیہ نے فرمایا: یقینا یہ کیا چی ہے۔تم بلال کے ساتھ جاؤ۔یقیناوہ تم میں سے اونچی اور لمبی آواز والے ہیں۔ان کو بتاتے جاؤ جو تمہیں بتایا گیا ہے۔پس وہ اس کی منادی کرے۔آپ یعنی عبد اللہ بن زید کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب نے نماز کے لیے حضرت بلال کی اذان سنی تو حضرت عمر ر سول اللہ صلی اللیلم کے پاس اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے آئے اور آپ یہ کہہ رہے تھے کہ اے رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یقیناً میں نے بھی وہی دیکھا ہے جیسا اس نے اذان میں کہا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا: پس تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے۔پس یہ بات زیادہ پختہ ہے۔451 یعنی اب مزید تصدیق ہو گئی۔حضرت عمر حضرت رسول کریم ملی ﷺ کا ادب اور احترام کس طرح کیا کرتے تھے۔کیا مقام تھا