اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 255 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 255

اصحاب بدر جلد 3 255 حضرت عمر بن خطاب العَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَ عَنِ الصَّلوةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ 445 شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دے اور تمہیں ذکر الہی اور نماز سے باز رکھے تو کیا تم باز آجانے والے ہو۔عمر پھر آئے اور یہ آیت پڑھ کر ان کو سنائی گئی تو انہوں نے کہا ہم باز رہے۔ہم باز رہے۔صحاح ستہ میں مذکور ان موافقات کے علاوہ بھی سیرت نگاروں نے متعد د موافقات کا ذکر کیا ہے۔چنانچہ علامہ سیوطی نے بیس کے قریب موافقات کا ذکر کیا ہے۔446 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا درجہ جانتے ہو کہ صحابہ میں کس قدر بڑا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات ان کی رائے کے موافق قرآن شریف نازل ہو جایا کرتا تھا اور ان کے حق میں یہ حدیث ہے کہ شیطان عمر کے سایہ سے بھاگتا ہے۔دوسری یہ حدیث ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہو تا۔تیسری یہ حدیث ہے کہ پہلی امتوں میں محدث ہوتے رہے ہیں اگر اس امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہے۔447<< حضرت عمر کا غزوات میں مشورہ دینا اور آنحضرت صلی للی کم کا اسے قبول فرمانا، اس بارے میں روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ یا حضرت ابو سعید جو روایت کرنے والے ہیں۔اعمش کو شک ہے کہ ان میں سے کون تھا۔بہر حال وہ کہتے ہیں ان سے روایت ہے کہ جب غزوہ تبوک کے دن تھے تولوگوں کو سخت بھوک لگی انہوں نے کہا یار سول اللہ ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے پانی لانے والے اونٹ ذبح کر لیں اور ہم کھائیں اور چکنائی استعمال کریں۔آپ نے فرمایا کر لو۔کہتے ہیں اس پر حضرت عمر آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی۔ہاں لوگوں کو اپنا باقی ماندہ زادِ راہ لانے کا ارشاد فرمائیں۔جو کچھ بھی کسی کے پاس کھانے کی چیز ہے وہ لے آئے۔پھر ان کے لیے اس پر برکت کی دعا کریں۔بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت رکھ دے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ ہاں یہ ٹھیک ہے۔راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی ا ہم نے ایک چمڑے کا دستر خوان منگوایا اور اسے بچھا دیا اور پھر ان کے باقی ماندہ زادِ راہ زاد منگوائے۔جو بھی کھانے کا سامان تھاوہ منگوایا۔راوی کہتے ہیں کوئی مٹھی بھر مکئی لایا، کوئی مٹھی بھر کھجوریں، کوئی روٹی کا ٹکڑہ وغیرہ لے آیا یہاں تک کہ اس دستر خوان پر اس میں سے کچھ تھوڑا سا اکٹھا ہو گیا۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ ہم نے اس پر برکت کی دعا کی۔پھر فرمایا اپنے برتنوں میں لے لو۔انہوں نے برتنوں میں اس کو لے لیا یہاں تک کہ لشکر میں کوئی برتن نہ چھوڑا مگر اس کو بھر لیا۔پھر سب نے کھایا اور سیر ہو گئے اور کچھ بیچ بھی گیا۔تب رسول اللہ صلی اللی یکم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کار سول ہوں اور جو شخص بغیر کسی شک کے ان دونوں شہادتوں کے ساتھ خدا سے ملے گاوہ جنت سے روکا نہیں جائے گا۔یہ مسلم کی روایت ہے۔بخاری میں یہ روایت اس طرح درج ہے۔یزید بن ابو عبید نے حضرت سلمہ بن اکوع سے 448