اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 243

حاب بدر جلد 3 402 243 حضرت عمر بن خطاب حضرت عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ میں حضرت عمرؓ کے پاس گیا جب ان کا سر ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمر کی ران پر تھا۔حضرت عمرؓ نے ان کو یعنی حضرت عبد اللہ بن عمر کو کہا کہ میرا رخسار زمین پر رکھ دو۔حضرت عبد اللہ نے کہا میری ران اور زمین برابر ہی ہے یعنی اس میں فاصلہ ہی کتنا ہے۔حضرت عمر نے دوسری یا تیسری مرتبہ کہا کہ تیر ابھلا ہو میر ار خسار زمین پر رکھ دو۔پھر آپ (حضرت عمر نے اپنی ٹانگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملالیا۔راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے آپ (حضرت عمرؓ) کو کہتے ہوئے سنا کہ میری اور میری ماں کی ہلاکت ہو گی اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے نہ بخشا یہاں تک کہ آپؐ کی وفات ہو گئی۔12 حضرت ساک حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عمرؓ سے کہا اللہ نے آپ کے ذریعہ سے نئے شہر آباد کیے اور آپ کے ذریعہ سے بہت سی فتوحات حاصل ہو ئیں اور آپ کے ذریعہ سے فلاں فلاں کام ہوا۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میری تو تمنا ہے کہ اس سے ایسے نجات پا جاؤں کہ نہ میرے لیے کوئی اجر ہو اور نہ کوئی بوجھ۔یعنی اس بات پر فخر نہیں کہ ہاں میں نے بڑے بڑے کام کیے ہیں اور میرے وقت میں بڑی فتوحات ہوئی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت غالب رہے اور اپنی آخرت کی فکر تھی۔زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا تم لوگ امارت کے بارے میں مجھ پر شک کرتے ہو۔خدا کی قسم !مجھے تو یہ پسند ہے کہ میں اس طرح نجات پا جاؤں کہ لا على ولائي کہ نہ مجھ پر کچھ عذاب ہو اور نہ میرے لیے کوئی ثواب یا جزا ہو۔403 حضرت مصلح موعودؓ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ ”حضرت عمر جیسا انسان جنہوں نے اپنی ساری عمر ہی ملت اسلامیہ کے غم اور فکر میں گھلادی۔جنہوں نے ہر موقعہ پر اعلیٰ سے اعلیٰ قربانی کی گو عمل کے لحاظ سے ان کی قربانیاں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قربانیوں تک نہ پہنچیں لیکن ارادہ اور نیت کے لحاظ سے سب کی برابر تھیں۔جب ابو بکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور انہوں نے کہا: خدا تعالیٰ ابو بکر رضی اللہ عنہ پر برکت کرے میں نے کئی دفعہ کوشش کی کہ ان سے بڑھ جاؤں مگر کبھی کامیاب نہ ہوا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی علیم نے فرمایا: مال لاؤ تو میں اپنا نصف مال لے گیا اور خیال کیا کہ آج میں ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ جاؤں گا مگر ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھ سے پہلے وہاں پہنچے ہوئے تھے اور رسول کریم صلی علیہ نیم کا چونکہ ان سے رشتہ بھی تھا اور جانتے تھے کہ انہوں نے کچھ نہیں چھوڑا ہو گا اس لئے آپ دریافت فرما رہے تھے کہ ابو بکر گھر کیا چھوڑا؟ انہوں نے کہا گھر گھر میں ”خدا اور رسول کا نام چھوڑا ہے۔یہ کہہ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ روتے اور فرماتے میں اس وقت بھی ان سے نہ بڑھ سکا۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ”یہ ان کی قربانیاں تھیں۔