اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 218 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 218

باب بدر جلد 3 218 حضرت عمر بن خطاب دیتے تھے۔ان عربوں نے اگر چہ اس وجہ سے کہ عیسائی ہو گئے تھے اوّل اوّل مسلمانوں کا مقابلہ کیا لیکن قومی اتحاد کا جذبہ رائیگاں نہیں جا سکتا تھا۔عراق کے بڑے بڑے رئیس بہت جلد مسلمان ہو گئے اور مسلمان ہو جانے پر وہ مسلمانوں کے دست و بازو بن گئے۔شام میں آخر عربوں نے اسلام قبول کر لیا اور رومیوں کی حکومت سے آزاد ہو گئے۔سکندر اور چنگیز وغیرہ کا نام لینا یہاں بالکل بے موقع ہے۔بے شبہ ان دونوں نے بڑی بڑی فتوحات حاصل کیں لیکن کس طرح؟ قبر، ظلم اور قتل عام کی بدولت۔چنگیز کا حال تو سب کو معلوم ہے۔سکندر وغیرہ کی فتوحات کا اگر موازنہ کریں تو سکندر کی یہ کیفیت ہے کہ جب اس نے شام کی طرف شہر صُور کو فتح کیا تو چونکہ وہاں کے لوگ دیر تک جم کر لڑے تھے اس لیے قتل عام کا حکم دیا اور ایک ہزار شہریوں کے سر شہر پناہ کی دیوار پر لٹکا دیے گئے۔جو فصیل تھی اس پر لٹکا دیے۔اس کے ساتھ تیس ہزار باشندوں کو لونڈی غلام بنا کر بیچ ڈالا۔جو لوگ قدیم باشندے اور آزادی پسند تھے ان میں سے ایک شخص کو بھی زندہ نہیں چھوڑا۔اسی طرح فارس میں جب اِصْطخر (اضطخر فارس کے قدیم شہر وں میں سے تھا اس ) کو فتح کیا تو تمام مردوں کو قتل کر دیا۔اسی طرح کی اور بھی بے رحمیاں اس کے کارناموں میں مذکور ہیں یعنی مشہور سکندر کے کارناموں میں۔پھر اسلامی فتوحات سے اس کا کس طرح موازنہ ہو سکتا ہے۔عام طور پر ہے کہ ظلم اور ستم سے سلطنت برباد ہو جاتی ہے۔یہ اس لحاظ سے صحیح ہے کہ ظلم کی بقا نہیں۔چنانچہ سکندر اور چنگیز کی سلطنتیں بھی دیر پا نہ ہو ئیں لیکن فوری فتوحات کے لیے اسی قسم کی سفاکیاں کارگر ثابت ہوئی ہیں۔اس کی وجہ سے ملک کا ملک مرعوب ہو جاتا ہے اور چونکہ رعایا کا بڑا گر وہ ہلاک ہو جاتا ہے اس لیے بغاوت اور فساد کا اندیشہ باقی نہیں رہتا۔یہی وجہ ہے کہ چنگیز، بخت نصر ، تیمور ، نادر شاہ جتنے بڑے بڑے فاتح گزرے ہیں سب کے سب سفاک بھی تھے لیکن حضرت عمر کی فتوحات میں کبھی قانون اور انصاف سے تجاوز نہیں ہو سکتا تھا۔آدمیوں کا قتل عام ایک طرف، درختوں کے کاٹنے تک کی اجازت نہیں تھی۔بچوں اور بوڑھوں سے بالکل تعرض نہیں کیا جاسکتا تھا۔بجز عین معرکہ کارزار کے کوئی شخص قتل نہیں کیا جا سکتا تھا۔یعنی لڑائی کے دوران میں قتل ہو تو ہو ، اس کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کرنا۔دشمن سے کسی موقع پر بد عہدی یا قریب دہی نہیں کی جا سکتی تھی۔افسروں کو تاکیدی احکام دیے جاتے تھے کہ اگر دشمن تم سے لڑائی کریں تو تم ان سے فریب نہ کرو۔کسی کی ناک، کان نہ کاٹو۔کسی بچے کو قتل نہ کرو۔کھل کے لڑو۔پھر جو لوگ مطیع ہو کر باغی ہو جاتے تھے یعنی ایک دفعہ اطاعت کر لی پھر باغی ہو گئے ان سے دوبارہ اقرار لے کر در گزر کی جاتی تھی یہاں تک کہ جب عَربَسُوس والے تین تین دفعہ متواتر اقرار کر کے پھر گئے، (یہ بنویس جو ہے یہ شام کی آخری سرحد پر واقع ایک شہر کا نام ہے جس کی سرحد ایشیائے کوچک سے ملی ہوئی تھی) تو صرف اس قدر کیا کہ ان کو وہاں سے جلا وطن کر دیا لیکن اس کے ساتھ ان کی کل جائیداد