اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 205
حاب بدر جلد 3 205 حضرت عمر بن خطاب 349 وہاں اسلامی فوج کا دوسرا حصہ تیار تھا۔اس نے ان کا راستہ روک دیا۔اس طرح رومی فوج مسلمانوں کی تینوں فوجوں کے درمیان پھنس گئی اور دشمن کو شکست ہوئی۔متفرق فتوحات کے بارے میں ذکر ہے کہ ان ڈرین کی فتح کے بعد سب سے پہلے فیوم کے علاقے پر حضرت عمرو بن عاص نے فتح حاصل کی اور اس علاقے کا سر دار اس لڑائی میں قتل ہو گیا۔پھر عَيْنُ الشَّمس میں مسلمانوں کا رومیوں سے مقابلہ ہوا۔اس سے قبل آٹھ ہزار مجاہدین کا لشکر بطور کمک حضرت عمر و بن عاص سے آملا جس کی کمان حضرت زبیر بن عوام کے ہاتھ میں تھی اور اس میں 350 حضرت عبادہ بن صامت، حضرت مقداد بن اسود اور مَسْلَمہ بن مُخَلَّد و غیرہ بھی تھے۔اس جنگ میں بھی مسلمانوں نے فتح حاصل کی۔اس کے بعد فیوم کے پورے صوبہ پر مسلمانوں نے فتح حاصل کی۔مسلمانوں کی فوج کے ایک حصہ نے صوبہ منوفیہ کے دو شہروں اِثْرِیب اور مَنُوف پر فتح پائی۔351 معرکہ قلعہ بابلیون یا فسطاط کی فتح کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت عمر و بن عاص اُم دُنین کی فتح کے بعد قلعہ باہلیوں کی طرف بڑھے اور اس کا زبر دست محاصرہ کیا۔اب اس علاقے کا نام فسطاظ ہے۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ عربی میں خیمے کو فسطاط کہتے ہیں۔حضرت عمر و بن عاص نے قلعہ کو فتح کرنے کے بعد جب یہاں سے کوچ کرنے کا حکم دیا تو اتفاق سے ایک کبوتر نے حضرت عمرو کے خیمے میں گھونسلا بنا لیا تھا۔جب ان کی نظر اس پر پڑی تو انہوں نے حکم دیا کہ اس خیمے کو یہیں رہنے دو اور حضرت عمرو نے اسکندریہ سے واپس آکر اسی خیمے کے قریب شہر بسایا اس لیے یہ شہر فسطاظ کے نام سے مشہور ہو گیا۔352 قلعہ میں محافظ دستے کی تعداد کا اندازہ پانچ سے چھ ہزار تک لگایا جاتا تھا اور وہ ہر طرح سے مسلح تھے۔حضرت عمرو نے قلعہ بابلیون کا محاصرہ شروع کیا۔اسکندریہ کے بعد یہ بہت مضبوط قلعہ تھا اور پکی اینٹوں سے بنایا ہوا تھا اور چاروں طرف سے دریائے نیل کے پانیوں سے گھرا ہوا تھا چونکہ دریائے نیل پر واقع تھا اور جہاز اور کشتیاں قلعہ کے دروازے پر آکر لگتی تھیں اس لیے سرکاری ضرورتوں کے لیے نہایت مناسب مقام تھا۔عرب اس آ مضبوط قلعہ پر حملہ کرنے کے لیے ضروری آلات سے لیس نہ تھے نہ وہ اس کے لیے تیار تھے۔353 حضرت عمرو نے اول اس کا محاصرہ کرنے کی تیاریاں کر لیں۔مقوقس جو مصر کا فرمانروا تھا وہ حضرت عمرو بن عاص سے پہلے قلعہ میں پہنچ چکا تھا اور لڑائی کا بندوبست کر رہا تھا۔حضرت زبیر نے گھوڑے پر سوار ہو کر خندق کے چاروں طرف چکر لگایا اور جہاں جہاں ضرور تیں تھیں مناسب تعداد کے ساتھ سوار اور سپاہی متعین کیے۔یہ محاصرہ مسلسل سات ماہ تک جاری رہا اور فتح و شکست کا فیصلہ نہ ہوا۔354