اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 183 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 183

حضرت عمر بن خطاب اصحاب بدر جلد 3 183 عیسائیوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔فوج اگر چہ ابتر ہو گئی تھی لیکن افسروں میں سے قبان بن اشیم ، سعید بن زید، یزید بن ابی سفیان، عمرو بن عاص، شرحبيل بن حسنه دادِ شجاعت دے رہے تھے۔قبات کے ہاتھ سے تلواریں اور نیزے ٹوٹ کر گرتے جاتے تھے مگر ان کے تیور پر بل نہ آتا تھا۔نیزہ ٹوٹ کر گر تا تو کہتے کوئی ہے جو اس شخص کو ہتھیار دے جس نے خدا سے اقرار کیا ہے کہ میدان جنگ سے ہٹے گا تو مر کر ہٹے گا۔لوگ فوراً تلوار یا نیزہ ان کے ہاتھ میں لا کر دے دیتے اور پھر وہ شیر کی طرح جھپٹ کر دشمن پر جا پڑتے۔ابو الاغور گھوڑے سے کود پڑے اور اپنی رکاب کی فوج سے مخاطب ہو کر کہا کہ صبر و استقلال دنیا میں عزت ہے اور عقبی میں رحمت۔دیکھنا یہ دولت ہاتھ سے نہ جانے پائے۔سعید بن زید غصہ میں گھٹنے ٹیکے ہوئے کھڑے تھے۔رومی ان کی طرف بڑھے تو شیر کی طرح جھپٹے اور مقدمے کے افسر کو مار کر گرا دیا۔یزید بن ابو سفیان معاویہ کے بھائی بڑی ثابت قدمی سے لڑ رہے تھے۔اتفاق سے ان کے باپ ابوسفیان جو فوج کو جوش دلاتے پھرتے تھے ان کی طرف آنکلے اور بیٹے کو دیکھ کر کہا کہ اے میرے بیٹے ! اس وقت میدان میں ایک ایک سپاہی شجاعت کے جوہر دکھا رہا ہے۔تو سپہ سالار ہے اور سپاہیوں کی بہ نسبت تجھ پر شجاعت کا حق زیادہ ہے۔تیری فوج میں سے ایک سپاہی بھی اس میدان میں تجھ سے بازی لے گیا تو تیرے لیے شرم کی جگہ ہے۔شرحبیل کا یہ حال تھا کہ رومیوں کا چاروں طرف سے نرغہ تھا اور یہ بیچ میں پہاڑ کی طرح کھڑے تھے اور قرآن کی یہ آیت پڑھتے تھے کہ إِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ (التوبة: (111) کہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس وعدے کے ساتھ خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی کیونکہ وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں۔پس یا تو وہ اپنے دشمنوں کو مار لیتے ہیں یا خود مارے جاتے ہیں اور نعرہ مارتے تھے کہ خدا کے ساتھ سودا کرنے والے اور خدا کے ہمسایہ بننے والے کہاں ہیں ؟ یہ آواز جس کے کان میں پڑی، بے اختیار کوٹ پڑا یہاں تک کہ اکھڑی ہوئی فوج پھر سنبھل گئی اور شر خبیل نے ان کو لے کر اس بہادری سے جنگ کی کہ رومی جو لڑتے چلے آتے تھے بڑھنے سے رک گئے۔ادھر عور تیں خیموں سے نکل نکل کر فوج کی پشت پر آکھڑی ہوئیں اور چلا کر کہتی تھیں کہ میدان سے قدم ہٹایا تو پھر ہمارا منہ نہ دیکھنا۔لڑائی کے دونوں پہلو اب تک برابر تھے بلکہ غلبہ کا پلہ رومیوں کی طرف تھا جو دفعہ قیس بن هبيرہ جن کو خالد نے فوج کا ایک حصہ دے کر میسرہ کی پشت پر متعین کر سنبھل نہ دیا تھا عقب سے نکلے اور اس طرح ٹوٹ کر حملہ کیا کہ رومی سرداروں نے بہت سنبھالا مگر فوج سکی۔تمام صفیں ابتر ہو گئیں اور گھبر اگر پیچھے ہٹیں۔ساتھ ہی سعید بن زید نے قلب سے نکل کر حملہ کیا۔رومی دور تک ہٹتے چلے گئے یہاں تک کہ میدان کے سرے پر جو نالہ تھا اس کے کنارے تک آگئے۔تھوڑی دیر میں ان کی لاشوں نے وہ نالہ بھر دیا اور میدان خالی ہو گیا۔یوں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس اہم ترین جنگ میں عظیم الشان فتح سے ہمکنار کیا۔