اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 130
اصحاب بدر جلد 3 130 حضرت عمر بن خطاب اس چیز نے نہیں رلایا۔اللہ کی قسم ! اللہ جس قوم کو یہ عطا فرماتا ہے تو ان میں آپس میں حسد اور بغض بڑھ جاتا ہے۔اس خیال نے مجھے رلایا ہے کہ یہ دولت جو تمہارے پاس آرہی ہے اس سے کہیں تم لوگوں کے درمیان بھائی چارے کی بجائے حسد اور بغض نہ بڑھ جائے اور جس قوم میں آپس میں حسد بڑھ جائے تو ان میں پھر خانہ جنگی شروع ہو جاتی ہے۔215 یہ بڑے غور اور فکر والی بات ہے اور یہ استغفار کرنے والی بات بھی ہے یہ جو آپ نے بیان فرمائی ہے اور یہی ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں میں حسد اور بغض دولت کے آنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا۔جن کے پاس تیل کی دولت ہے ان میں بھی ہے یا انفرادی طور پر دیکھیں تو جس کے پاس کچھ اور دولت آئی ہے تب بھی یہی حال ہے۔تقویٰ میں کمی ہے۔مدائن کی جنگ کے دوران شاہ ایران يَزْدَجَرْد اپنا پایہ تخت مدائن چھوڑ کر اپنے خاندان اور ملازمین کے ہمراہ حُلوان کو روانہ ہو گیا تھا۔يَزْدَجَرُد کو جلولاء کی شکست کی خبر پہنچی تو وہ ملوان چھوڑ کر رے کو روانہ ہوا اور خُسُر وشَنُوم کو جو ایک معزز افسر تھا چند رسالوں کے ساتھ ملوان کی حفاظت کے لیے چھوڑ دیا، کچھ فوجی دستوں کے ساتھ وہاں چھوڑ دیا۔حضرت سعد خود جلولاء میں ٹھہرے اور فَعْقاع کو خلو ان کی طرف روانہ کیا۔قعقاع قصر شیریں کے قریب پہنچے جو حلوان سے تین میل کے فاصلہ پر ہے کہ خُسْرُ وشَئُوم خود آگے بڑھ کر مقابل ہوا لیکن شکست کھا کر بھاگ نکلا۔قعقاع نے حلوان پہنچ کر قیام کیا اور ہر طرف امن کی منادی کرا دی۔اطراف کے رئیس آآکر جزیہ قبول کرتے جاتے تھے اور اسلام کی حمایت میں آتے جاتے تھے۔216 ماسبذان کی فتح کس طرح ہوئی۔اس بارے میں آتا ہے کہ حضرت ہاشم بن عقبہ جو جلولاء کے معرکے میں امیر لشکر تھے واپس مدائن آچکے تھے اور حضرت سعداً بھی مدائن میں ہی مقیم تھے کہ اطلاع ملی کہ ایک ایرانی لشکر آذین بن هرمزان کی سر کردگی میں مسلمانوں سے ٹکر لینے کے لیے میدانی علاقے کی طرف بڑھ رہا ہے۔حضرت سعد نے یہ رپورٹ حضرت عمرؓ کی خدمت میں بھجوا دی۔حضرت عمرؓ نے یہ ہدایت کی کہ ضرار بن خطاب کی سر کردگی میں ایک لشکر مقابلہ کے لیے بھیجا جائے جس کے ہر اول دستوں کی قیادت ابنِ ھذیل کے ہاتھ میں ہو اور ہو اور عبد اللہ بن وهب را سہی اور مُضَارِب بن فُلان عجلی بازوؤں کے کمانڈر ہوں۔اسلامی لشکر ایرانی لشکر کے مقابلے کے لیے روانہ ہوا اور ماسبذان کے میدانی علاقے کے قریب دشمن سے جاملا اور هند فى مقام پر لڑائی ہوئی جس میں ایرانیوں کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے آگے بڑھ کر شہر ماسبذان پر قبضہ کر لیا۔باشندے شہر چھوڑ کر بھاگ گئے مگر ضرار بن خطاب نے انہیں دعوت دی کہ آکر امن سے اپنے شہر میں آباد ہو جائیں۔انہوں نے دعوت قبول کرلی اور اپنے گھروں میں آباد ہو گئے۔217