اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 105

اصحاب بدر جلد 3 105 حضرت عمر بن خطاب اصل ماخذ سے بھی چیک کیے گئے ہیں اور ٹھیک ہیں۔حضرت ابو بکر کی ایک اہم وصیت فتوحات ایران و عراق کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کے دور میں اہل فارس کے ساتھ جنگ جاری تھی کہ اس دوران حضرت ابو بکر بیمار ہو گئے جس کی وجہ سے اسلامی افواج کو پیغامات موصول ہونے میں تاخیر ہو رہی تھی۔اس لیے حضرت معنی اسلامی فوج میں اپنے نائب مقرر کر کے خود حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ آپ کو جنگ کے حالات سے باخبر کریں اور مزید مدد کی درخواست کریں۔حضرت مٹی مدینہ پہنچے اور حضرت ابو بکر کو واقعات کی اطلاع دی۔اس پر حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کو بلایا اور یہ وصیت فرمائی کہ اے عمر ! میں جو کچھ کہتا ہوں اسے غور سے سنو پھر اس پر عمل کرنا۔آج سوموار کا دن ہے میں توقع کرتا ہوں کہ میں آج ہی فوت ہو جاؤں گا، یہ حضرت ابو بکر فرمارہے ہیں۔اگر میں فوت ہو جاؤں تو شام ہونے سے قبل لوگوں کو جہاد کی ترغیب دے کر منی کے ساتھ بھیج دینا اور اگر میری وفات رات تک مؤخر ہو جائے تو صبح سے پہلے مسلمانوں کو جمع کر کے معنی کے ساتھ کر دینا۔میری موت کی مصیبت خواہ کتنی ہی بڑی ہو وہ تمہیں دین کے احکام اور خد اتعالیٰ کے احکام کی تعمیل سے ہر گز باز نہ رہنے دے۔تم نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی ال یکم کی وفات کے موقع پر میں نے کیا کیا تھا حالا نکہ لوگوں کو اور مخلوق کو اس جیسی مصیبت کبھی پیش نہیں آئی تھی۔خدا کی قسم ! اگر میں اس وقت رسول اللہ صلی اللی کام کے حکم کی تعمیل میں ذرا تاخیر جائز رکھتا تو خدا ہم کو ذلیل کر دیتا۔ہم کو سزا دیتا اور مدینہ میں آگ کے شعلے بھڑک اٹھتے۔عراق پر چڑھائی کے لئے لشکر کی تیاری چنانچہ حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ نے مسندِ خلافت پر متمکن ہوتے ہی اس وصیت کی تعمیل میں حضرت ابو بکر کی تدفین سے اگلے روز لوگوں کو جمع کیا۔بیعت خلافت کے لیے تمام اطراف سے بے شمار آدمی آئے ہوئے تھے اور تین دن تک ان کا تانتا بندھا رہا تھا۔حضرت عمر نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور مجمع عام میں جہاد کا وعظ کیا کیونکہ عرب قدیم سے مملکت ایران کی شان و شوکت اور زبر دست فوجی طاقت سے خائف رہتے تھے اور لوگوں کا عام طور پر خیال تھا کہ عراق حکومت فارس کا پایہ تخت ہے اور وہ حضرت خالد کے بغیر فتح نہیں ہو سکتا اس لیے سب خاموش رہے۔حضرت عمرؓ نے کئی دن تک وعظ کیا لیکن کچھ اثر نہ ہوا۔آخر چوتھے دن اس جوش سے تقریر کی کہ حاضرین کے دل دہل گئے اور لوگوں کی ایمانی حرارت جوش میں آئی اور حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی آگے بڑھے اور انا لھذا کا نعرہ مارا کہ میں اس کے لیے حاضر ہوں۔اور اس جہاد کے لیے اپنا نام پیش کیا۔ان کے بعد حضرت سعد بن عبید اور سلیط بن قیس سامنے آئے۔ان لوگوں کا سامنے آنا تھا کہ ایمانی جوش مسلمانوں کے دلوں میں