اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 93 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 93

اصحاب بدر جلد 3 93 96 حضرت عمر بن خطاب پولیس کا محکمہ قائم فرمایا۔اس محکمہ کو احتساب، امن و امان، بازار کی نگرانی وغیرہ کے اختیارات دیے تھے یعنی کہ لوگوں کو دیکھنا کہ وہ صحیح طرح باتوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں کہ نہیں۔کسی کے حق مارے جار ہے ہیں تو ان کی ادائیگی کروانا۔جو انتظامی معاملات تھے انہیں دیکھنا جب تک معاملہ قاضی کے پاس نہیں جاتا۔امن و امان، بازار کی نگرانی وغیرہ ، یہ سارے نگرانی کے اختیارات تھے۔حضرت عمرؓ نے با قاعدہ جبیلیں بھی بنوائیں۔اس سے قبل جیلوں کا رواج نہیں تھا۔سخت سزائیں بھی مجرموں کو دی جاتی تھیں۔پھر اسی طرح بیت المال کا قیام ہے۔حضرت عمرؓ سے قبل جو بھی مال آتا وہ فوری تقسیم ہو جاتا۔حضرت ابو بکڑ کے دور میں ایک مکان خرید کر بیت المال کے لیے وقف کیا گیا لیکن وہ بند ہی رہتا تھا کیونکہ جو بھی مال آتا اسی وقت تقسیم ہو جاتا۔15 ہجری میں بحرین سے پانچ لاکھ کی رقم آئی تو حضرت عمرؓ نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ اس رقم کا کیا کیا جائے۔ایک رائے یہ تھی کہ سلاطین شام میں خزانے کا محکمہ قائم ہے۔چنانچہ اس رائے کو حضرت عمر نے پسند فرمایا اور مدینہ میں بیت المال کی بنیاد ڈالی۔حضرت عبد اللہ بن ارقم کو خزانے کا افسر مقرر کیا گیا۔بعد میں مدینہ کے علاوہ تمام صوبہ جات اور ان کے صدر مقامات میں بیت المال قائم کیے گئے۔حضرت عمر عمارتوں کی تعمیر میں کفایت شعاری سے کام لیتے تھے مگر بیت المال کے لیے نہایت مستحکم اور شاندار عمارتیں بنوایا کرتے تھے۔بعد میں ان پر پہرے دار بھی مقرر کیے گئے تھے۔170 اس کے لیے سیکیورٹی کا پورا نظام تھا۔بیت المال کے مال کے متعلق حضرت عمر خود حفاظت فرماتے تھے۔ایک واقعہ تاریخ میں آتا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان کے ایک آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ ایک روز شدید گرمی تھی۔میں حضرت عثمان کے ہمراہ عالیہ مقام میں ان کے مال مویشیوں کے پاس تھا۔مدینہ سے نجد کی جانب چار سے آٹھ میل کے درمیان کی وادی ہے اسے عالیہ کہتے ہیں۔آپ نے ایک آدمی کو دیکھا جو دو نوجوان اونٹ ہانک کر لے جارہا تھا یعنی حضرت عثمان نے دیکھا کہ ایک آدمی آ رہا ہے اور جوان اونٹ اس کے آگے آگے چل رہے ہیں اور زمین شدید گرم تھی۔اس پر حضرت عثمان نے فرمایا اس شخص کو کیا ہوا ہے ! اگر یہ مدینہ میں رہتا اور موسم ٹھنڈا ہونے کے بعد نکلتا تو اس کے لیے بہتر ہو تا۔جب وہ شخص قریب آیا تو حضرت عثمان کے ملازم کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے مجھ سے فرمایا کہ دیکھو یہ کون ہے ؟ میں نے کہا چادر میں لپٹا ہوا ایک شخص ہے جو دو نوجوان اونٹ ہانک رہا ہے۔پھر وہ شخص اور قریب ہوا تو حضرت عثمان نے پھر فرمایا کہ دیکھو کون ہے ؟ میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر بن خطاب تھے۔میں نے عرض کی کہ یہ تو امیر المومنین ہیں۔حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور دروازے میں سے سر باہر نکالا لیکن گرم ہوا کی لپٹ پڑی تو آپ نے سر اندر کر لیا اور پھر فوراہی دوبارہ حضرت عمر کی طرف منہ کر کے عرض کیا۔آپؐ کو کس مجبوری نے اس وقت گھر سے نکالا ہے ؟ حضرت عمر نے فرما یا صدقے کے اونٹوں میں سے یہ دو اونٹ پیچھے رہ گئے تھے ان کے علاوہ باقی سارے اونٹ