اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 71
حاب بدر جلد 3 71 حضرت عمر بن خطاب کہا کہ اسے ہنڈیا میں آہستہ آہستہ ڈالو اور میں اسے تمہارے لیے ہلا تا ہوں۔دوسری جگہ لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تم آہستہ آہستہ آٹا ڈالو۔میں تمہارے لیے حریرہ تیار کرتا ہوں۔پھر آپ ہنڈیا کے نیچے آگ سلگانے کے لیے پھونک مارنے لگے۔اسلم یعنی روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ آپؐ (حضرت عمر) بڑی اور گھنی داڑھی والے تھے۔میں نے دیکھا کہ دھواں آپ کی داڑھی کے اندر سے نکل رہا ہے۔یعنی دھواں اٹھتا تھا تو ان کے چہرے پر بھی پڑتا تھا، داڑھی کے اندر سے بھی گزر جاتا تھا۔جب ہنڈیا پک گئی تو آپ نے ہنڈیا کو نیچے اتارا۔آپ نے فرمایا کوئی برتن لاؤ۔وہ عورت بڑی پلیٹ لائی۔آپ نے اس میں کھانا ڈالا اور کہنے لگے تم ان بچوں کو کھلاؤ۔میں تمہارے لیے پھیلاتا ہوں تاکہ ٹھنڈا ہو جائے، یعنی اس کو مزید پھیلا کے دوسری جگہ، دوسرے برتن میں ٹھنڈا کرتا ہوں۔پھر آپؐ مسلسل ایسا کرتے رہے یہاں تک کہ ان بچوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھالیا اور جو بچ گیا وہ آپ نے اس کے پاس چھوڑ دیا۔اسلم کہتے ہیں: پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔اس پر وہ عورت کہنے لگی اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے۔تم اس امر میں امیر المومنین سے زیادہ حقدار ہو یعنی جزا کے۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا بھلائی کی بات کہو۔جب تم امیر المومنین کے پاس جاؤ گی تو تم انشاء اللہ مجھے وہاں پاؤ گی۔بہر حال وہ کہتے ہیں پھر حضرت عمر وہاں سے ایک طرف ہٹ گئے۔پھر اس خاتون کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے۔میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا اس کے علاوہ اور بھی کوئی کام ہے۔آپ نے مجھ سے کوئی بات نہ کی یہاں تک کہ میں نے بچوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے سے کھیل رہے تھے اور ہنس رہے تھے اور تمام بچے پر سکون ہو کر 133 سو گئے تو حضرت عمرؓ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کھڑے ہوئے اور میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے اسلم! بھوک کی وجہ سے یہ بچے جاگ رہے تھے اور رورہے تھے۔میں نے پسند کیا کہ میں یہاں سے اس وقت تک نہ جاؤں جب تک کہ میں ان کی اس آرام کی حالت کو نہ دیکھ لوں جو میں نے ابھی دیکھی ہے۔33 حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ انسانی ضروریات کا ان لوگوں کے لیے مہیا کر نا جو ان کو یعنی ان ضروریات کو مہیا نہیں کر سکتے اسلامی حکومت کا فرض ہے۔اسلامی حکومت کی ذمہ داری بتا رہے ہیں۔اس کے متعلق حضرت عمر کا ایک واقعہ نہایت ہی مؤثر اور کاشف حقیقت ہے۔یعنی حقیقت کو کھولنے والا ہے۔ایک دفعہ حضرت عمر خلیفہ ثانی باہر مجتس کر رہے تھے کہ کسی مسلمان کو کوئی تکلیف تو نہیں۔مدینہ ، دار الخلافہ سے تین میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں مرار نامی ہے۔ہمارے تحقیق کرنے والے کہتے ہیں کہ شاید مرار نہیں بلکہ صر ار ہی اس کا نام ہے۔ہو سکتا ہے کاتب کی غلطی کی وجہ سے مرار لکھا گیا ہو۔بہر حال وہاں آپ نے دیکھا کہ ایک طرف سے رونے کی آواز آرہی ہے۔ادھر گئے تو دیکھا ایک عورت کچھ پکار ہی ہے اور دو تین بچے رورہے ہیں۔اس سے پوچھا کہ