اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 66
ناب بدر جلد 3 66 حضرت عمر بن خطاب کہ وہ یورپین مصنف جو دن رات رسول کریم صلی الی پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں، جو رسول کریم صلی الم کے متعلق اپنی کتابوں میں نہایت ڈھٹائی کے ساتھ یہ لکھتے ہیں کہ نعوذ باللہ ! آپ نے دیانت داری سے کام نہیں لیا وہ بھی ابو بکر اور عمر کے ذکر پر یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جس محنت اور قربانی سے ان لوگوں نے کام کیا ہے اس قسم کی محنت اور قربانی کی مثال دنیا کے کسی حکمران میں نظر نہیں آتی۔خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کام کی تو وہ بے حد تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ وہ شخص تھا جس نے رات اور دن انہماک کے ساتھ اسلام کے قوانین کی اشاعت اور مسلمانوں کی ترقی کے فرض کو سر انجام دیا مگر عمر کا اپنا کیا حال تھا؟ اس کے سامنے باوجود ہزاروں کام کرنے کے، باوجود ہزاروں قربانیاں کرنے کے ، باوجو د ہزاروں تکالیف برداشت کرنے کے یہ آیت رہتی تھی کہ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا اور یہ کہ وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ یعنی جب تمہیں خدا کی طرف سے کسی کے کام پر مقر ر کیا جاوے اور تمہارے ملک کے لوگ اور تمہارے اپنے بھائی حکومت کے لئے تمہارا انتخاب کریں تو تمہارا فرض ہے کہ تم عدل کے ساتھ کام کرو اور اپنی تمام قوتوں کو بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لئے صرف کر دو۔چنانچہ حضرت عمر کا یہ واقعہ کیسا دردناک ہے کہ وفات کے قریب جبکہ آپ کو ظالم سمجھتے ہوئے ایک شخص نے نادانی اور جہالت سے خنجر سے آپ پر وار کیا اور آپ کو اپنی موت کا یقین ہو گیا تو آپ بستر پر نہایت کرب سے تڑپتے تھے اور بار بار کہتے تھے اللهُم لَا عَلَى وَلالي اللهُمَّ لَا عَلَى وَلا لي اے خدا ! تُو نے مجھ کو اس حکومت پر قائم کیا تھا اور ایک امانت تو نے میرے سپرد کی تھی۔میں نہیں جانتا کہ میں نے اس حکومت کا حق ادا کر دیا ہے یا نہیں۔اب میری موت کا وقت قریب ہے اور میں دنیا کو چھوڑ کر تیرے پاس آنے والا ہوں۔اے میرے رب ! میں تجھ سے اپنے اعمال کے بدلہ میں کسی اچھے اجر کا طالب نہیں، کسی انعام کا خواہش مند نہیں بلکہ اے میرے رب ! میں صرف اِس بات کا طالب ہوں کہ تو مجھ پر رحم کر کے مجھے معاف فرمادے اور اگر اس ذمہ داری کی ادائیگی میں مجھے سے کوئی قصور ہو گیا ہو تو اس سے در گزر فرما دے۔عمر وہ جلیل القدر انسان تھا جس کے عدل اور انصاف کی مثال دنیا کے پردہ پر بہت کم پائی جاتی ہے مگر اس حکم کے ماتحت که وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ جب وہ مرتا ہے تو ایسی بے چینی اور ایسے اضطراب کی حالت میں مرتا ہے کہ اسے وہ تمام خدمات جو اس نے ملک کی بہتری کے لئے کیں، وہ تمام خدمات جو اس نے لوگوں کی بہتری کے لئے کیں، وہ تمام خدمات جو اس نے اسلام کی ترقی کے لئے کیں بالکل حقیر نظر آتی ہیں۔وہ تمام خدمات جو اس کے ملک کے تمام مسلمانوں کو اچھی نظر آتی تھیں، وہ تمام خدمات جو اس کے ملک کی غیر اقوام کو بھی اچھی نظر آتی تھیں، وہ تمام خدمات جو نہ صرف اس کے ملک کے اپنوں اور غیروں کو ہی نہیں بلکہ غیر ممالک کے لوگوں کو بھی اچھی نظر آتی تھیں ، وہ تمام خدمات جو صرف اس کے زمانہ میں ہی لوگوں کو اچھی نظر آتی تھیں بلکہ آج تیرہ سو سال گزرنے کے بعد بھی وہ لوگ جو اس